فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ ستائیس روز سے مسلسل بھوک ہڑتالی اسیر جعفر عزالدین کی بھوک ہڑتال کے باعث حالت خطرے سے دوچار ہوچکی ہے
جبکہ قابض صہیونی فوج نے محروس فلسطینی کو اسپتال منتقل کرنے اوراس کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے عالمی مطالبات بھی مسترد کردیے ہیں۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے رکن اور اسیر جعفر کے وکیل رائد محامید نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے موکل کو الجملہ جیل میں رکھا گیا ہے جہاں وہ آج ستائیسویں روزمیں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعفر عزالدین کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ بھوک ہڑتال سے قبل اس کا وزن 71 کلو گرام تھا جبکہ بھوک ہڑتال کے بعد اب اس کا وزن کم ہو کر55 کلو گرام رہ گیا ہے اور وہ اب یومیہ تین لیٹرپانی پیتے ہیں۔
ایڈووکیٹ محامید نے بتایا کہ اس کے موکل کو کچھ دیرکے لیے اسرائیلی جیل انتظامیہ جیل کی ایک اسپتال میں لے گئی تھی تاہم اس کا علاج معالجہ نہیں کیا گیا اوربغیر کسی چیک اپ کے اسے دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔
فلسطینی اسیر کے وکیل نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں اور عالم اسلام سے اپیل کہ وہ وہ جعفرعزالدین کی زندگی بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قابض صہیونی انتظامیہ دانستہ طور پرفلسطینی اسیر کی زندگی سے کھیل رہی ہے اور اس کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

