اسرائیلی جیل میں زیرحراست فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیرہ کی بھوک ہڑتال کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ھناء کی مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث اس کی طبی حالت نہایت خطرناک ہو چکی ہے۔
اسیرہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس کی موکلہ نے ٹھوس غذا کھانے سے مکمل انکار کر دیا ہے اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے اسیرہ کے مطالبات پرعدم توجہی کے باعث اس کی حالت نہایت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسیرہ کے وکیل رائد محامید نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی موکلہ اسرائیلی جیل "ھشارون” میں ایک نہایت تشویش ناک حالت میں ہے۔ اس کا طبی معائنہ کرنے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم "میڈیکل رائٹس کونسل” کی ٹیم نے جیل کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے ھناء کا بھی طبی معائنہ کیا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ اسیرہ کی شوگر نہایت تیز اور اس کی دل کی دھڑکن بہت سست ہو چکی ہے۔ جسمانی عضلات اور پھٹے نہایت کمزور اور بے جان ہیں، آنکھیں زرد ہو چکی ہیں اور معدے اور پھیپھڑوں میں بھی ورم پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ تمام امراض مل کراسے سخت پریشان کیے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ اس نے بھوک ہڑتال بھی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔
بھوک ہڑتالی اسیرہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ھناء شلبی مسلسل بھوک کی وجہ سے ایک لمحہ کے لیے بھی نیند نہیں کر سکتی۔ اس کی نظر بھی کمزور ہو چکی ہے۔
رآئد محامید کا کہنا ہے کہ اس نے جیل میں ھناء سے بات کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ کھانے والی کوئی غذا نہیں لے گی اور صرف پانی پی کر اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے گی۔ دوسری جانب اسرائیل جیل انتظامیہ نے اس کی بھوک ہڑتال کے باعث حالت تشویشناک ہونے کے باوجود اسیرہ کے جائز مطالبات نظرانداز کر دیے ہیں۔
وکیل نے خبردار کیا کہ اسیرہ کو بروقت کھانا اور طبی امداد نہ دی گئی تو اس کی حالت مزید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

