احرار سنٹر برائے مطالعہ اسیران نے مجیدو جیل میں اسرائیلی جیل سروس کی جانب سے اسیر نضال فطاش کے آرٹ ورک اور ڈرائنگز چھینے جانے کی مذمت کی ہے۔
اسیر کی والدہ نے احرار سنٹر کو بتایا ہے کہ اسرائیلی جیل سروس سلفیت سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ فطاش سے تفتیش کررہی ہے اور ان کو ڈرائنگ کی وجہ سے قید تنہائی میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فطاش جیل کی ڈرائنگ جیل سے فرار کا منصوبہ بنانے کے لئے تیار کررہے ہیں۔
اسیر کی والدہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے بیٹے کی ڈرائنگ اسرائیلی جیلوں میں مئی 2012ء سے ان کی حراست کی مشکلات بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ڈرائنگز کے چھن جانے کا واقعہ انہیں اپنا آرٹ ورک کو مکمل کرنے سے نہیں روک سکتی۔
فطاش کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ فطاش کا ارادہ ہے کہ وہ فلسطینی اسیروں کی حالت زار پر روشنی ڈالنے کے لئے اپنی ڈرائنگز کی ایک نمائش منعقد کروائیں گے۔
فطاش جو کہ النجاح نیشنل یونیورسٹی میں فائن آرٹس فیکلٹی کے طالبعلم ہیں، انہیں 15 ماہ کی قید سنائی گئی ہے۔ انہیں ان کے گریجویشن پراجیکٹ کی بحث سے صرف چند گھنٹے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی والدہ کو ان کی جگہ گریجویشن پراجیکٹ کی بحث میں حصہ لینا پڑا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
