فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو روز قبل لاپتہ ہونے والے تین یہودی آباد کاروں کا فی الحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل بینی گانٹز سرچ آپریشن کی نگرانی خود سنھبالتے ہوئے لاپتہ یہودیوں کو جلد از جلد تلاش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان "افخائی ادرعی” نے ایک بیان میں بتایا کہ تین یہودی آباد کاروں سے جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ یہ تینوں یہودی آباد کار مغربی کنارے میں قائم "گوش عتصیون” یہودی کالونی سے تعلق رکھتے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے لاپتہ یہودیوں کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے اور سرچ آپریشن کی نگرانی آرمی چیف خود کر رہے ہیں۔ادھر اسرائیلی اخبارات میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں کے سرچ آپریشن بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہیں بالخصوص الخلیل شہراور اس کے آس پاس کے مقامات پر تلاشی کا عمل نہایت خطرناک ہے۔
صہیونی حکومت اور ذرائع ابلاغ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ تینوں لاپتہ یہودیوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے یرغمال بنایا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی فلسطینی تنظیم کی جانب سے یہودیوں کو اغواء کیے جانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
