مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے بھی انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے کم سن بچوں پر تشدد کے غیر انسانی طریقوں کے استعمال کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ زیرحراست ملزمان سے اعتراف جرم کرانے کے لیے ان پر غیراخلاقی اور غیر انسانی تشدد کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتےہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اسرائیل کے "عتصیون” نامی ایک ملٹری حراستی مرکز میں رکھے گئے پندرہ سالہ فلسطینی لڑکے نور محمد حلمی حمامرہ سے دوران تفتیش نہایت ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ دوران تفتیش پلاس[زنبور] کی مدد سے اس کے دانت اور ناخن کھینچے گئے اور اس کے جسم سے گوشت نوچنے کی کوشش کی گئی۔
نور الحلمی نے انسانی حقوق کے مندوبین کو بتایا کہ ایک صہیونی درندہ صفت تفتیش کار نے پلاس کی مدد سے اس کے تمام دانت نکالنے کی دھمکی دی جس کے بعد اس کے دانت، کھال اور ناخن پلاس کی مدد سے کھینچے گئے۔ صہیونی تفتیش کار نے کہا کہ اگر میں اعتراف جرم نہیں کروں گا تو وہ میرے تمام دانت اور ناخن پلاس کے ذریعے اکھاڑ پھینکیں گے۔
وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والے بچے نے بتایا کہ جب صہیونی تفتیش کاروں نے اس کا ایک دانت پلاس کی مدد سے کھینچ ڈالا تو اس کے منہ سے خون کا ایک فوارا پھوٹ پڑا۔ شدت تکلیف سے مجھے بار بار غشی کے دورے پڑتے لیکن مجھے اسی حالت میں تین گھنٹے تک ایک کرسی کے ساتھ باندھ کررکھا گیا جس کے بعد ایک دوسرے تفتیشی مرکز میں لے جایا گیا۔ الحلمی نے بتایا کہ اس کے ساتھ حراست میں لیے گئے دیگر بچوں اور بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے نہایت دردناک تشدد کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈھائے جانے والے مظالم پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو قیدیوں پر غیر انسانی سلوک کرنے سے سختی سے روکے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں پابند سلاسل بچوں پروحشیانہ تشدد اور تعذیب کے نہایت دردناک ہتھکنڈے استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ آئے روز قیدیوں پر وحشیانہ اور غیر انسانی
حربوں کی خبریں اخبارات ی زینت بنتی رہتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
