اسرائیلی میڈیا نے عسکری ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے جو اسی شہر میں رواں ہفتے عبرانی سال نو کی تقریبات کے موقع پر ایک پرتعیش ہوٹل”مامیلا” پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا ہے کہ انہوں نے”مامیلا” ہوٹل میں دھماکوں کی مکمل منصوبہ بندی کرلی تھی۔ وہ کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہوٹل کے دو خاکروبوں کی مدد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کی مدد سے ایک بم جو کہ رام اللہ میں تیار کیا گیا ہوٹل تک پہنچانا اور ہوٹل کو دھماکے سے اڑانا تھا۔
صہیونی ملٹری پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے دونوں فلسطینی بیت المقدس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک القدس میں شعفاط کیمپ میں رہتا ہے جبکہ دوسرا راس العمود کا رہائشی ہے۔ ان دونوں کو رام للہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ایک کمانڈر نے بھرتی کیا اور انہیں تربیت فراہم کی ہے۔ دونوں ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
قبل ازیں انسانی حقوق کی تنظیم”عالمی یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق” کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اگست کے آخری عشرے میں اسرائیلی انٹیلی جنس حکام نے رام اللہ کے قریب البیرہ قصبے سے ایک 22 سالہ نوجوان حمدی حسنین رمانہ حراست میں لیا ہے، جس پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ستمبر کے اوائل میں عبرانی سال نو کی تقریبات کے دوران کئی دوسرے ساتھیوں سمیت اسرائیلی شہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رام اللہ سے حسنین رمانہ کی گرفتاری کے بعد بیت المقدس سے دو مزید نوجوان بھی حراست میں لیے گئے ہیں، جن پر حماس سے تعلق کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
