مقبوضہ فلسطین میں اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح نے کہا ہے کہ ہر گزرتے سال سے اسرائیل کی عمر کم ہو رہی ہے۔ قابض اسرائیلیوں کے مسجد اقصی پر حملے امت مسلمہ کے لئے چیلنج ہیں، امت مسلمہ اس پر خاموش نہیں رہے گی۔
قبلہ اول پر 64 سالہ تسلط کے باوجود اسرائیل ایک ظالم اور باطل مملکت ہے جو تیزی سے اپنی شناخت کھو رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار الشیخ رائد صلاح نے ترکی کے ثقافی دارلحکومت استنبول میں ایک عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
‘القدس: ہماری عثمانی میرات خطرے میں” کے عنوان سے استنبول میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین، عرب اور اسلامی دنیا سے بڑی تعداد میں نمائندہ شخصیات شریک ہوئیں۔ ترکی کی متعدد سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، رہنماؤں کے علاوہ بڑی تعداد میں ترک عوام نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس میں القدس اور مسجد اقصی کے بارے ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس کے بعد مہتر بینڈ نے خلافت عثمانیہ کا ترانہ بجا کر حاضرین سے داد سمیٹی۔ الشیخ رائد صلاح نے عثمانی دور کے ترانہ بجانے والے بینڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فتح استنبول کا ترانہ ہمارے لہو گرما گیا ہے۔ اب آپ القدس کی فتح کا ترانہ گانے کے لئے تیار ہو جائیں۔
کانفرنس کی میزبان ترک انجمن ‘ہماری میرات’ کے سربراہ محمد دمرجی نے اپنے خطاب میں القدس الشریف کو درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے وہاں جاری اپنے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین لاکھ افراد مسلمان القدس میں انتہاء کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قابض حکومت مسجد اقصی کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ محمد دمرجی نے نعروں کی گونج میں اعلان کیا کہ اس صورتحال پر ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ اسرائیل مسجد اقصی اور القدس کو کبھی ختم نہیں پائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
