وادی حلوہ انفارمشین سینتر کی رپورٹ کے مطابق جس مکان کو گرانے کا حکم دیا گیا ہے وہ سلوان میں ایک مشہور صیام خاندان کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ یہ ایک سو بیس مربع میٹر پر پھیلا دو منزلہ مکان ہے جو کئی سال سے وہاں پر موجود ہے۔
مالک مکان حمود صیام نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی عدالت میں فیصلے پرنظرثانی کے لیے بھی درخواست دی تھی مگران کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں نوے ہزار امریکی ڈالر کی رقم کے مساوی ضمانت بھی جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگراسرائیلی عدالت نے فیصلہ ملتوی کرنے کے بجائے اس پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔
حمود صیام نے بتایا کہ انہوں نے یہ مکان سنہ 1995 ء میں تعمیر کیا تھا۔ اسرائیلی عدالت کی جانب سے مکان گرانے کا پہلانوٹس مجھے مکان کی تکمیل کے اگلے سال ہی مل گیا تھا۔
درایں اثناء فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نہتے شہریوں کے مکانات کی مسماریوں کے رحجان میں اضافے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ بند کرے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو ان کی املکا سے محروم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔
