فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے سے فلسطینی پارلیمنٹ (قانون ساز کونسل) کےاراکین کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاریوں پر پارلیمنٹ کے ایک ہنگامی اجلاس میں شدید مذمت کی گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کا غزہ کی پٹی میں ہنگامی اجلاس جمعرات کے روزغزہ کی پٹی میں ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے سے اسپیکر ڈاکٹرعزیزدویک اور دیگر اراکین قانون ساز کونسل اور بیت المقدس سے خالد ابوعرفہ اور محمد طوطح کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئےاسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحرنے مصر، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سےمطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل کو تحفظ فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت فلسطینی پارلیمنٹ کا نظام درہم برہم کرنا چاہتا ہے، ایسے میں عالم اسلام اور عالمی برادری کی فلسطینیوں کے حمایت کےحوالے سے ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔
ڈاکٹر بحرکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عزیزدویک اور دیگر اراکین کی گرفتاریاں بلا جواز ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی جمہوری قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا چاہیے۔
اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے جاری یہودی آباد کاری اور فلسطینیوں پر تشدد بھی زیربحث آیا۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو اسرائیل کی فلسطینیوں کےخلاف ننگی جارحیت قرار دیا۔
فلسطینی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فتح اور حماس سمیت تمام فلسطینی جماعتوں پرزور دیا گیا کہ وہ قومی مفاہمت کے لیے کی جانے والی مساعی کو جلد ازجلد عملی شکل دینے کی کوشش کریں۔

