مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کا ہنگامی اجلاس اپوزیشن میں شامل سیاسی جماعتوں”جمیعنا”،”میرٹز” اور "صہیونی یونین” کے مطالبے پربلایا گیا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری میں اسرائیل کے بائیکاٹ کا عمل مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ میں طلبا کی جنرل یونین نے بھی بائیکاٹ گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے کہا تھا کہ برطانوی طلبا یونین نے اعتدال پسندی کا راستہ ترک کرکے انتہا پسندانہ اسلام کی راہ اختیار کرلی ہے۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ برطانوی طلباء اتحاد نے دولت اسلامی”داعش” جیسی انتہا پسند اسلامی تنظیموں کی راہ اختیار کرلی ہے اور اس سے برطانیہ میں انتہا پسندی میں مزید اضافہ ہوگا
دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی طلباء یونین نے اسرائیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے وہ اسرائیل دشمنی کا مظہر ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
