عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کی جانب سے نئے منظور کردہ قانون کے تحت کنیسٹ میں منظور ہونے والے کسی بھی قانون کا فوری اطلاق نہ صرف اسرائیل کے اندر ہوگا بلکہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کی تمام یہودی کالونیوں پربھی ہوگا۔
کابینہ کے نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ کنیسٹ کے نئے قوانین کا مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں پر اطلاق کی ذمہ دار فوج کی سینٹرل کمانڈ ہوگی جو قانون منظور ہونے کے 45 دن کے اندر اندر اسے ان کالونیوں پربھی لاگو کرےگی۔
رپورٹ کے مطابق کنیسٹ کے کسی بھی قانون کو تمام یہودیوں کے لیے یکساں لازمی قراردیا گیا ہے اور کہاگیا ہے کہ فلسطین کے کسی بھی علاقے میں رہنے والے یہودیوں کے لیے کنیسٹ کے قوانین کا احترام کرنا ضروری ہوگا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں کو متنازعہ عرب علاقوں میں ہونے کی وجہ سے اسرائیلی کنیسٹ کے قوانین پر عمل درآمد میں استثنیٰ حاصل رہا ہے۔ صہیونی کنیسٹ کے تمام قوانین کے فوری اطلاق کے ذریعے اسرائیل نے غرب اردن کی یہودی کالونیوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنانے کی سازش کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
