فلسطینیوں کی آزادی کے لیے ماضی میں اسرائیل کےخلاف چلائی جانے والی تحریک انتفاضہ نے صہیونی لیڈروں کی نیندیں آج تک حرام کی ہوئی ہیں۔ آج بھی یہودی سیاست دان اٹھتے بیٹھتے فلسطینیوں کی کسی نئی تحریک انتفاضہ کے خوف کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اسرائیلی کنیسٹ(پارلیمنٹ) کی ایک بڑی سیاسی جماعت "قدیما” کے چیئرمین شاؤل موفاز نے بھی فلسطین میں اسرائیل کےخلاف تحریک انتفاضہ کو نوشتہ دیوار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض فلسطینی علاقوں میں سیاسی جمود اسرائیل کے خلاف ایک نئی تحریک انتفاضہ کی راہ ہموارکر رہا ہے۔
عبرانی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے شاؤل موفاز کا کہنا تھا کہ فلسطینی عرب علاقوں میں حالیہ اطمینان اور پرسکون حالات محض عارضی ہیں کیونکہ اندر ہی اندر اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی پرتشدد کارروائیوں کا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں قدیما پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ کوئی پرامن معاہدہ اسرائیل کی بقاء کے لیے زندگی کا درجہ رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کسی تصفیے کے لیے معاونت نہیں کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بنجمن نیتن یاھو صرف اپنی حکومت بچانے کے چکروں میں ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
