مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی صدر نے ان خیالات کا اظہار اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یتزحاق ہرٹزوگ سے ملاقات میں کیا۔ صہیونی سیاست دان نے منگل کے روز مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں صدر عباس سے ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر صدر عباس نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کو یقین دلایا کہ فلسطینی ملیشیا شہریوں کو اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ شروع نہیں کرنے دیں گے۔ دونوں رہ نمائوں نے دو طرفہ بات چیت کی بحالی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔
صدر عباس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فلسطین پیش پیش ہے اور اسرائیل کے خلاف کسی تیسری تحریک انتفاضہ کو سراٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی "وفا” کے مطابق صدر محمود عباس نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے دوران امن عمل اور فلسطینی ریاست سے متعلق اپنے موقف کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیل کو سنہ 1967 ء کی جنگ سے قبل والی پوزیشن پرجانا ہوگا اور بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی اجازت دینا ہوگی۔
محمود عباس نے مذاکرات کی بحالی کا بھی عندیہ دیا اور کہاکہ فریقین کو خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ فلسطین میں امن پورے مشرق وسطیٰ میں امن کا باعث بنے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
