اسرائیل کی مجدو جیل میں ایک فلسطینی کی شہادت کے بعد مغربی کنارے میں شروع ہونے والے مظاہرے پر تشدد ہو گئے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم نے اس ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ ہفتے کے دن شمالی اسرائیل کی مجدو نامی ایک جیل میں تیس سالہ فلسطینی قیدی عرفات شليش شاهين جردات اچانک جاں بحق ہو گیا۔ اسرائیلی جیل خانہ کے ترجمان سیوان ویزمن نے اے ایف پی کو بتایا: ’’شاید اسے دل کا دورہ پڑا تھا۔ فی الحال میرے پاس اس حوالے سے مزید معلومات نہیں ہیں۔‘‘
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم سلام فیاض کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس قیدی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں اسرائیلی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کروائیں اور جن حالات میں عرفات کی موت ہوئی ہے، اس کے بارے میں تفصیل بتائی جائے۔ سلام فیاض نے اس واقعے کو ’ایک دھچکا‘ قرار دیا ہے۔
عرفات کی موت کی خبر عام ہونے کے فوری بعد ہی مغربی کنارے میں ہبرون نامی شہر میں نوجوان فلسطینیوں نے مظاہرہ کیا۔ اس دوران مشتعل مظاہرین اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے کہا ہے کہ قیدی کی موت کی وجہ ’اسرائیلی جیلوں میں غیر انسانی صورتحال‘ بنی ہے۔
اسرائیل کے داخلی خفیہ ادارے نے بتایا ہے کہ عرفات کو منگل کے دن حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر نومبر 2012ء میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر پتھراؤ کا الزام تھا۔ اس پتھراؤ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی زخمی بھی ہو گیا تھا۔
اس خفیہ ادارے کے بہ قول، ’’دوپہر کے کھانے کے بعد وہ (عرفات) آرام کر رہا تھا۔ اچانک اس کی طبعیت بگڑ گئی تو فوری طور پر ڈاکٹروں کو طلب کر لیا گیا لیکن وہ عرفات کی جان نہ بچا سکے۔‘‘ مزید بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے متعدد مرتبہ اس کا معائنہ کیا لیکن وہ کوئی طبی مسئلہ تشخیص کرنے میں ناکام رہے۔
اسرائیلی حکام کے بہ قول پولیس اس واقعے کے تحقیقات کر رہی ہے۔ اسرائیل میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ گروپ بتسلیم نے زور دیا ہے کہ ان تحقیقات میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ تفتیش کے دوران اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا تھا اور اس پر کون سا طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔
عرفات کا پوسٹمارٹم آج بروز اتوار کیا جائے گا۔ اسرائیلی حکام نے اس عمل کے دوران فلسطینی ماہر ڈاکٹروں کو بھی مدعو کر لیا ہے۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ عرفات کے پوسٹمارٹم کے دوران فلسطینی ڈاکٹر اور مقتول کے رشتہ دار بھی وہاں موجود ہوں گے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
