مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی”جامعہ حیفا” کے زیرانتظام کی والی ایک اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ عرب شہروں میں جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے وہاں پرعدالتوں میں عرب جج تعینات کیے جائیں گے لیکن اس وعدے کے باوجود فلسطینیوں اور عرب باشندوں کے ساتھ اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیاں بدستور جاری و ساری ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ مقبوضہ عرب شہروں میں مجموعی طورپر 672 جج تعینات ہیں جن میں 52 عرب ہیں جو کہ کل تعداد کا صرف 7.7 فی صد بنتی ہے جبکہ صہیونی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سنہ 1948 ء کے عرب شہروں میں قائم عدالتوں میں فلسطینی ججوں کا کوٹہ 20 فی صد سے زیادہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 ء میں مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کے کل 580 میں سے 40 جج عرب تھے۔ اس کے بعد چھ سال میں صرف 12 عرب ججوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان میں تمام جج سپریم کورٹ، مجسریٹ عدالتوں، لیبر کورٹس اور سینٹرل کورٹس میں تعینات ہیں جبکہ بیت المقدس اور تل ابیب میں قائم سینٹرل کورٹ میں کوئی ایک عرب جج نہیں ہے۔
اسرائیلی تجزیہ نگار گائی لوری کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جوڈیشل اتھارٹی کے مطابق فلسطینی عربوں میں پیشہ وارانہ بنیادوں پر جج کی اہلیت پراترنے والے امیدوار اصل مسئلہ ہیں لیکن حقیقت اس کےبرعکس ہے۔ جوڈیشل اتھارٹی اور حکومت دراصل خود ہی دانستہ طورپر عرب شہریوں کو عدالتوں میں ججوں کے عہدوں پرتعینات کرنے سے گریز کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتوں میں فلسطینی ججوں کی عدم موجودگی سے مقامی فلسطینی آبادی کی صرف 24 فی صد اپیلیں سماعت کے لیے منظوری کی جاتی ہیں۔ اگر عرب ججوں کا کوٹا پورا ہو فلسطینیوں کی قابل سماعت درخواستوں کی تعداد 36 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
