قابض اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹرعزیز دویک کو صہیونی ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق محروس فلسطینی اسپیکر ڈاکٹر دویک کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ڈاکٹر دویک کے وکیل فادی قواسمی نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ انہیں فیکس کے ذریعے ڈاکٹر دویک کو سنائی جانے والی سزاء کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ قواسمی کا کہنا ہے کہ عزیز دویک کی غیرقانونی حراست کےخلاف دی گئی ان کی درخواست پر کوئی بحث نہیں کی گئی اور نہ ہی اس موضوع پرعدالت نے کوئی اجلاس منعقد کیا ہے۔
ڈاکٹر دویک کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دویک کے وکیل نے انہیں اسرائیلی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کی تفصیلات میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور فوج نے فلسطینی اسپیکر کی جیل سے باہر موجودگی کو صہیونی ریاست کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور اس نام نہاد جواز کی آڑ میں ڈاکٹرعزیز دویک کو حراست میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹرعزیز دویک کے اہل خانہ نے اسرائیلی عدالت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرد ویک کی غیرقانونی حراست فلسطینی مجلس قانون ساز پر براہ راست حملہ ہے۔

