فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے نام امن پیغام پرنیتن یاھو کی حکومت نے جواب میں مغربی کنارے میں تین یہودی کالونیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کل سترہ اپریل کو صدر محمود عباس نے فتح کے وزیراعظم سلام فیاض کو ایک خصوصی امن پیغام دے کر نیتن یاھو کے پاس بھیجا تھا۔ اس امن پیغام کے پہنچائے جانے کے کچھ ہی دیر کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پیش آئند ہفتے مغربی کنارے میں تین یہودی بستیوں”السنسہ”، "بروخین” اور "رحلیم” کی تعمیر کی منظوری دے گی۔
منگل کے روزاسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں سلام فیاض سے ملاقات سے قبل کئی اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران اسرائیلی سپریم کورٹ کی ہدایت کے تحت مغربی کنارے میں ایک فلسطینی شہری کے مکان کو یہودیوں سے خالی کرانے کے حکم، الخلیل شہرمیں "ھاؤلینا” یہودی کالونی کو ختم کرنے اور دیگرامور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر نیتن یاھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن یہودی عوام مغربی کنارے میں کسی بھی یہودی بستی کو ختم کرنے کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
اس موقع پر مغربی کنارے میں تین مزید یہودی کالونیوں بروخین، رحلیم اور سنسہ کی تعمیر پرغور کیا گیا تاہم اس کی منظوری اگلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرمواصلات یسرائیل کاٹز نے کابینہ کے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ حکومت یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے اور اس سلسلے میں وزیردفاع کو دیے گئے تمام خصوصی اختیارات واپس لے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

