• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل کو’یہودی مملکت‘ قرار دینے کے نسل پرستانہ قانون کے مضمرات

جمعرات 04-12-2014
in فلسطین
0
plf aftereffects
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کی دائیں بازو کے انتہا پسندوں پر مشتمل گروپوں کی حکومت نے بالآخر وہ فیصلہ کر دیا جس کا پچھلے کئی برسوں سے انتظار تھا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو اسرائیل ’’ یہودیوں کا قومی وطن‘‘ قرار دینے کے ایک متنازعہ قانون کی منظوری کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ قانون کابینہ میں لیکوڈ پارٹی کے رکن زئیو الکن اور جیو ہوم کے لائیلیت چاکید نے کئی ماہ قبل پیش کیا تھا تاہم 25 نومبر کو وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس پر رائے شماری کی اجازت دی۔
 
پارلیمنٹ میں یہ قانون کثرت رائے سے منظور ہو گیا مگر حکومتی اتحاد میں شامل بعض اہم رہ نمائوں کی اس سخت مخالفت کی۔ چنانچہ وزیر انصاف زیپی لیونی اور فیوچر پارٹی کے رہ نما اور وزیرخزانہ یائر لبید نے اس متنازعہ قانون کی منظوری پر اپنی وزارتوں سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ کابینہ میں پیدا ہونے والے اختلافات کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے یہ قانون کنیسٹ میں بحث کے لیے پیش نہ کیا جا سکا۔

مستعفی ہونے والے دونوں وزراء نے اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کے قانون کی مذمت کی اور کہا کہ یہ قانون یہودی بنیاد پرستی کا مظہر ہے۔ کابینہ میں اعتراضات کے بعد کنیسٹ میں پیش کئے جانے سے قبل اس قانون میں معمولی ترمیم کی تجویز بھی زیرغور ہے کیونکہ سابق تجاویز کے مطابق اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین نے اس متنازعہ قانون کی ہئیت ترکیبی، اس کے فلسطینیوں کے آئینی حقوق کے لیے جاری جدو جہد پر اثرات سمیت اس کے نقصانات کا ایک تجزیہ کیا گیاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ  اسرائیل بہ طور’’یہودی قومی وطن‘‘ کے قانون کی منظوری کے بعد لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی اور  فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کو یہودیوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا گیا ہے۔
 
اسرائیل میں بسنے والے تمام طبقات ماسوائے یہودی اس قانون کی رو سے اقلیت ہی نہیں بلکہ دوسرے اور تیسرے درجے کے لوگ تصور ہوں گے۔ انہیں یہودیوں کے مساوی حقوق میسر ہوں گے اور نہ ہی وہ برابری کی بنیاد پر سہولیات کےحصول کے حق دارقرار پائیں گے۔ یہ قانون یہودیوں کو تحفظ دلانے سے زیادہ فلسطین میں آباد عرب شہریوں کے حقوق کا استٗصال کرنے کی ایک گھنائونی سازش ہے کیونکہ اسرائیل کی انتہا پسند جماعتوں کو اگر تکلیف ہے تو وہ اسرائیل کی حدود میں آباد فلسطینی عرب باشندوں کے وجود سے ہے۔
 
اس قانون کی منظوری کے بعد بیرون ملک اور اندرون فلسطین لاکھوں پناہ گزین واپس ان علاقوں میں دوبارہ آباد نہیں ہوسکیں گے جہاں سے انہیں سنہ 1948ء میں قیام اسرائیل کے وقت فوجی طاقت کے بل بوتے پرنکالا گیا تھا۔

اسی بات کا کھلم کھلا اعتراف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے 26 نومبر کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کا مطلب اسرائیل کو بنیاد پرستی کی طرف دھکلینا ہے۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسرائیل کو نظریاتی طورپر یہویوں کا قومی وطن قرار دینا ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اسرائیل کو یہودیوں کا قومی ملک قرار دینا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ اس کی بقاء کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ اگر ہم یہ قانون منظور نہیں کرتے تو کل کو لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی پناہ گزین واپس اسرائیل میں آباد کرکے ہمیں اقلیت میں بدلا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان عرب پناہ گزینوں کی دوبارہ آباد کاری اور واپسی روکنے کے لیے ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جولوگ مقبوضہ فلسطینی علاقوں الجلیل اور النقب میں فلسطینیوں کی الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ قانون ان کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔

اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے قانون کی حمایت میں صرف وزیراعظم نیتن یاھو اور ان کی جماعت لیکوڈ ہی پیش پیش نہیں ہیں بلکہ اس قانون کے گن گانے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں۔ ایک سے بڑھ کرایک انتہا پسند اور دائیں بازو کی بنیاد پرست یہودی سیاسی اور مذہبی جماعتیں متنازعہ قانون کی حمایت پر کمر بستہ دکھائی دیتی ہیں۔

ان میں‘‘جیوش ہوم‘‘ پارٹی کے سربراہ اور وزیر برائے اقتصادیات نفتالی بینت سر فہرست ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قانون منظور نہیں ہو پاتا تووہ حکومتی اتحاد سے نکل جائیں گے۔ نیتن یاھو نے نفتالی جیسے اپنے ہم نوائوں کی بات کو اہمیت دی ورنہ اس کی مخالفت میں بھی کابینہ میں زور دار آوازیں موجود تھیں۔

’’موومنٹ پارٹی‘‘ کی سربراہ زیپی لیونی اور ’’مستقبل‘‘ کے یائر لبید نے اس قانون میں رائے شماری کا کھل کرمخالفت کی۔ قانون منظور ہونے کے بعد دونوں نے اپنی اپنی وزارتوں سے استعفے بھی دے دیے۔

نیتن یاھو کی حمایت میں ہم آواز ہونے والوں میں موجودہ صدر روفین ریویلین اور سابق صدر شمعون پیریز بھی دکھائی دیے۔ رویلین نے ناقدین کے بارے میں کہا کہ وہ اسرائیل کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ شمعون پیریز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینا ملک کی آزادی کا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ یہ قانون خطے میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹ  یا مخصوص گروپ کا سیاسی مفادات کے حصول کا ایجنڈا ہے۔

بائیں بازو کی سیکولر جماعت’’لیبر پارٹی‘‘ نے بھی اس قانون کی بڑے شد ومد کے ساتھ مخالفت کی اور کہا کہ اس قانون کی منظوری سے اسرائیل کے سیکولر اور جمہوری چہرے کو داغ دار کیا گیا۔ لیبرپارٹی کی خاتون سربراہ اتزحاق ہرسٹوگ نے کہا کہ اسرائیل کو یہودیوں کا قومی ملک قرار دے کر وزیراعظم نتین یاھو نے اپنا سیاسی مستقبل خود تباہ کیا ہے۔ ان کی عوام میں سیاسی ساکھ تباہ ہوگئی اور اگر آج وسط مدتی انتخابات ہوتے ہیں تو لیبر پارٹی کلین سویپ کرے گی۔ انہوں نے مستعفی ہونے والے وزیروں زیپی لیونی اور یائر لبید کو تجویز دی کہ وہ لیبر پارٹی کے ساتھ اتحاد کریں اور آئندہ انتخابات میں انتہا پسندوں کو شکست فاش سے دوچار کریں۔

لیبر پارٹی کی جانب سے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں نتین یاھو اور انتہا پسندوں کو شکست دینے کا دعویٰ اپنی جگہ اور اس کا فیصلہ وقت کرے گا تاہم لمحہ موجود میں کابینہ میں پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد نیتن یاھو کی موجودہ حکومت اپنے انجام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کو اسرائیل کو یہودی مملکت قرار دینے کی قیمت چکانا پڑی ہے۔ تاہم نیتن یاھو پیش آئند پارلیمانی انتخابات میں بھی میدان مارنے کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ہم خیال گروپوں اور شدت پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ جوڑ توڑ آج سے شروع کردی ہے۔

اسرائیل کو یہودیوں کا ’’قومی ملک‘‘ قرار دینے کے قانون کو علاقائی اور مقامی سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھیں تو اس کے درج ذیل اثرات اور پہلو دکھائی دیتےہیں۔

نسل پرستانہ قوانین میں ایک نیا اضافہ
ماہرین کے خیال میں اگر اسرائیل کو’’یہودی قومی ریاست‘‘  قرار دینے کے قانون کو محض اسرائیل کے نسل پرستانہ قانون کے تناظرمیں دیکھیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ گرین لائن یعنی سنہ1948ء کی جنگ میں اسرائیل کا حصہ بن جانے والے فلسطینی علاقوں میں آباد عرب شہریوں کے لیے اس طرح کے نسل پرستانہ قوانین کوئی نئی بات نہیں۔ جب اسرائیل یہودیوں کا قومی وطن نہیں بھی قرار پایا تھا تب بھی فلسطینی شہری بنیادی شہری حقوق سے محروم تھے۔ فلسطینیوں کی جبری ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی املاک، اراضی اور جائیدادوں پر مختلف ہتھکنڈوں سے قبضے کی سازشیں اپنے نطقہ عروج پر ہیں۔ ان کے مقابلے میں یہودیوں پر صہیونی ریاست کی بے پناہ نوازشات رہیں۔ فلسطینیوں سے صنفی اور نسلی امتیاز برتا جاتا رہا ہے۔ اس لیے اسے نسل پرستانہ کارروائی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ طویل سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔

مثال کے طور پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں  کچھ عرصہ قبل ایک قانون پیش کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے والوں کی اسرائیلی شہریت ختم کی جائے۔ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ ایسا کرے تو اس کی کنیسٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کے ساتھ اسے ملک بدر کیا جائے۔ اس نسل پرستانہ قانون کا ہدف  عرب کمیونٹی سے منتخب ہونے والی سابق خاتون رکن کنیسٹ حنین الزعبی ہیں۔ انہیں فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کی پاداش میں نہ صرف کنیسٹ کی رکنیت سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے بلکہ ان کی ملک بدری کے لیے بھی راہ ہموا ہو رہی ہے۔

فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ صہیونی عدالتیں یہودیوں کے حق میں فیصلے دے کر یہ ثابت کرتی رہی ہیں کہ عرب اور فلسطینیوں شہریوں کا درجہ یہودیوں سے کہیں کم ہے۔ اس کے مقابلے میں یہودیوں کے کسی بھی مقدمہ میں فلسطینیوں کو کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔ انسانوں کے درمیان یہ بدترین امتیازی سلوک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل آج نہیں بلکہ عشروں قبل ہی ایک سفاک یہودی قومی ریاست بن چکا تھا۔

حق خود ارادیت، حق واپسی پرضرب کاری
اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے قانون کا ایک دوسرا پہلا بھی نہایت خطرناک ہے۔ وہ پہلوفلسطینیوں کے حق خود ارادیت، لاکھوں پناہ گزینوں کی ان کے وطن میں واپسی اور آباد کاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطین میں موجود عرب آبادی کو ھجرت پرمجبور کرنا ہے۔ یہ قانون اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں اندھا دھند یہودی کالونیاں تعمیر کرنے، فلسطینیوں کی اراضی اور املاک غصب کرنےاور ان کے شہری حقوق پردست درازی کا مجاز قرار دیتا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فلسطینیوں اور دوسری اقلیتوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں۔ یا وہ ملک چھوڑ دیں یا اسرائیل میں دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری کے طورپر جینا قبول کرلیں۔

انتہا پسندی کی طرف میلان
اسرائیل کو یہودی ریاست کو تشخص دلانے کے نئے متنازع قانون کا ایک مقصد انتہا پسند گروپوں کو نہ صرف ایک فورم پر متحد کرنا ہے بلکہ اسرائیل کو کلی طورپر دائیں بازو کے شدت پسند اور بنیاد عناصر کی ریاست بنانا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے بیانات اور بدن بولی سےبھی اس کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے اس قانون کی منظوری کے بعد یہودیوں کی سب سے شدت پسند جماعت ’’شاش‘‘ کے ساتھ بھی اتحاد کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ جیوش ہوم اور اس قبیل کے دوسرے انتہا پسند گروپ پہلے ہی نیتن یاھو کے ہم خیال ہی نہیں بلکہ قابل اعتماد اتحادی ہیں۔

اس قانون کی منظوری سے اسرائیل سماج میں عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت کو کوٹ کوٹ کربھرنا اور ملک میں موجود سیاسی تقسیم کو مزید گہری کرتے ہوئے سیکول اور لبرل جماعتوں کا صفایا کرنا ہے۔
البتہ اس قانون کی منظوری کو اسرائیل کا ایک مذہبی گروپ’’حریدیم‘‘ شک وشبے کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کویہودی ریاست قرار دینے کے قانون بعض اہم یہودی اصطلاحات مثلا‘‘یہودیت‘‘(Judaism)، تورات (Torah) اور الھلاکاہ (Halakha) کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ایک یہودی ربی ایلی اوفران کاکہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق اسرائیل کی ثقافت، تاریخ اور سیاست پرہوتا ہے جس کا تورات کی مذہبی تعلیمات سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔

اسرائیل کے غیرمرتب دستور کاحصہ
چونکہ اسرائیل میں کوئی مفصل آئین اور دستور موجود نہیں اور آئین سازی کا عمل زیادہ تر روایات پرمبنی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کے قانون کو بھی اسی غیر مدون دستور کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اسرائیل کا عدالتی نظام بھی کسی مدون  اور مرتب شدہ قانونی دفعات کا پابند نہیں۔ اسرائیلی جج محض سابقہ فیصلوں کی روشنی میں اجتہاد سے کام لیتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ عدلیہ کے کسی فیصلے کی تعبیر و تفسیربھی بہت کم کی جاتی ہے۔ جس طرح اسرائیلی کابینہ کے ہر فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اسی طرح عدلیہ کے فیصلے بھی اٹل ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ قانون بھی کابینہ ہی نے منظور کیا ہے اس لیے اسے اسرائیلی ریاست کے غیر مرتب آئین کا حصہ سمجھا جائےگا اور اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جائے گی۔

سیاسی فوائد سمیٹنے کی کوشش
ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کے متنازعہ قانون کا ایک مقصد انتہا پسند گروپوں کو سیاسی فواید پہنچانا بھی ہے۔ اگرچہ اس قانون کے تمام فائدہ شدت پسندوں ہی کو ہوں گے مگر اس کا ایک نقد فائدہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ہوگا۔ وسط مدتی انتخابات میں وہ اس قانون کو اپنی اہم ترین کامیابی کے طورپر پیش کرکے اس کے حق میں خوب پروپیگنڈہ کریں گے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد نیتن یاھو کو موشے ویگلین جسے شدت پسندوں کے حامیوں کا ووٹ بھی مل سکتا ہے جس کے نتیجے میں لیکوڈ پارٹی ایک بار پھراسرائیل میں اقتدار کےخواب دیکھ رہی ہے۔

بنجمن نیتن یاھو نے موجودہ حکومتی اتحاد بچانے کی اس لیے بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی کیونکہ انہیں شاس اور یہودیہ التوارۃ جیسے آرتھوڈوکس یہودی گروپوں کے ووٹ ملنے کا قوی امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صدر ریاست کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بار بار مشورہ دے رہے ہیں اور اب ان کے مشورے میں شدت ہی نہیں بلکہ جبر بھی شامل ہوگیا ہے۔

متنازعہ قانون اور تنازع فلسطین
بعض ماہرین اسرائیل کو یہویوں کا قومی وطن قرار دینے کے نئے قانون کو فلسطینی تنازع کے ساتھ بھی جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کشمکش سال ہا سال سے جاری ہے اور اسرائیلی قیادت کی پوری کوشش رہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو الگ مملکت بنانے سے روکنے کے لیے ہرحربہ استعمال کریں۔ انہوں نے فوج، پولیس، عدلیہ، مقننہ سمیت ریاست کے تمام اداروں کو فلسطینیوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کی کوشش کی۔ فلسطینیوں پراسرائیل کا کلچر جبرا مسلط کیا گیا۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا رہا تاکہ فلسطینی عوام کی آبادی میں اضافہ نہ ہونے پائے بلکہ جتنا ممکن ہوسکے اس میں کمی لائی جاسکے۔ کیونکہ فلسطینیوں کی آبادی میں اضافہ اسرائیل کے زوال کا پیشہ خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں بلکہ اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاھو سمیت ماضی کے حکمران بھی کھلم کھلا یہ کہتے رہے ہیں کہ فلسطینیوں کی آبادی میں اضافہ اسرائیلی ریاست کے وجود اس کی بقاء کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

چونکہ یہ قانون ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کی مساعی جاری رکھے ہوئے ہے۔چوبیس نومبر کو فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں سے یوم یکجہتی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب میں اس امر کا اظہار کیا کہ وہ  ارض فلسطین کے مجموعی طورپر 22 فی صد رقبے پرفلسطینی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں۔
محمود عباس کا یہ بیان اسرائیل کے یہودی نسل پرستانہ قانون کی حمایت کا تاثر دیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی  قوم اسرائیل سے آزادی حاصل نہیں کرسکتی  بلکہ انہیں صرف بائیس فی صد رقبے پرجمع کردیا جائے گا۔

محمود عباس کے اس بیان کے چند روز بعد اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین بھی تجویز پیش کی کہ گرین لائن میں مقیم فلسطینی وہ علاقے چھوڑ دیں اورممکنہ طورپر فلسطینی ریاست میں شامل ہونے والے شہروں کی طرف نکل جائیں۔ اگر فلسطینی ایسا کرنا چاہیں گے تو اسرائیل ان کی مالی معاونت بھی کرے گا۔ اس ضمن میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان خفیہ بات چیت کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔

حال ہی میں اسرائیل کے عبرانی نیوز ویب پورٹلWalla کے نامہ نگار عمیر ٹیبون نے اخبار New Republic میں ایک مضمون لکھا جس میں انکشاف کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے اہم عہدیداروں اور اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر یتزحاق مولخو کے درمیان ایک خفیہ مفاہمت ہوئی ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی نے بعض اہم مطالبات سے دستبرداری پراتفاق کیا ہے۔ ان مطالبات میں بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا حصہ بنانے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے دستبرداری شامل ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو فلسطینی اتھارٹی ہی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

خلاصہ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل میں حال ہی میں منظور کردہ نسل پرستانہ قانون اپنے پہلو میں کئی خطرات لیے ہوئے ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں اسرائیل میں موجود فلسطینیوں کی عرب اقلیت کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا نا، گرین لائن کے اندر  فلسطینی آبادی کو وہاں سے نکل جانے پر مجبور کرنا، بیت المقدس میں کشیدگی کو ہوا دینا جیسے اہم خطرات شامل ہیں۔ اس قانون سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سیاست پرانتہا پسندوں کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اوران کے مقابلے میں لبرل اور روشن خیال سیاسی طبقات کو شکست کا سامنا ہے۔ یہ قانون جہاں اسرائیل میں یہودیوں کو خصوصی شناخت دے گا وہیں فلسطینیوں کی اصل شناخت مٹانے کے لیے صہیونی حکومتوں اور اس کے حواری انتہا پسند گروپوں کے پاس ایک طاقتور ہتھیار ہوگا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.