مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کے قائم مقام اسپیکر ڈاکٹراحمد بحر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو دو ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین اسلحہ اور جنگی آلات فروخت کرنے کی منظوری دے کر فلسطینیوں کے قتل عام میں پنا حصہ ڈال دیا ہے۔
ڈاکٹر احمد بحر نے امریکی کانگریس کی جانب سے اسرائیل نوازی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکا نے ایک بارپھریہ ثابت کردیا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل کی مساعی کو سبوتاژ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم دہشت گردی میں صہیونی دشمن کا ساتھی بن گیا ہے۔
ڈاکٹر احمد بحر کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس نے اسرائیل کو بنکر شکن میزائل فروخت کرکے ہزاروں نہتے فلسطینی بچوں، بوڑھوں ، خواتین اور معصوم شہریوں کے قتل عام کی راہ ہموار کردی ہے۔ ہم اس معاہدے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی کانگرنس نے قریبا دو ارب ڈالر مالیت کے جدید ترین جنگی ہتھیار اسرائیل کو فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ نئی ڈیل میں جدید ترین بیلسٹگ اور لیزرگائیڈڈ میزائل، راڈار، بنکر شکن میزائل اور دیگر مہلک اسلحہ شامل ہے۔
ڈاکٹر احمد بحر کا کہنا تھا کہ کانگریس کی جانب سے اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے کریہ ثابت کردیا گیا ہے کہ امریکا کسی اخلاقی اور انسانی دائرے کا پابند نہیں ہے۔ اسرائیل کا دفاع اور ظالم صہیونی کی پشتیبانی اسے ہرچیز سے عزیز ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے امریکا کی سفارتی کوششیں محض ڈھکوسلا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ امریکی فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے خواہاں ہیں تو وہ اسرائیل کو مہلک ہتھیارں کیوں فروخت کررہے ہیں۔ ہم امریکی کانگریس کے اس فیصلے کو یکسر مستردکرتے ہیں کیونکہ کانگریس نے جدید اسلحہ کو فلسطینیوں پر آزمانے کے لیے اسرائیل کو دینے کا بہانہ کیاہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
