رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بئر سبع کے پراسیکیوٹر نے حراست میں لیے گئے فلسطینی ہیکر جو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر ہے کی گرفتاری اور اس کےخلاف تیار کردہ فرد جرم کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو مطلع کرنے کی اجازت دی ہے۔ پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حراست میں لیا گیا فلسطینی نوجوان اسرائیلی محکمہ دفاع کے کمپیوٹرسسٹم تک رسائی کے ساتھ ساتھ ڈرون طیاروں کا کمپیوٹر سسٹم ہیک کرنے اور اسرائیل کی حساس معلومات چوری کرنےکے لیے فلسطینی مزاحمت کاروں کو فراہم کرنے میں ملوث ہے۔
اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے اپنے ایک بیان کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر نے بئر سبع کی ایک مرکزی عدالت میں ملزم کی پیشی کے لیے ایک فرد جرم تیار کی ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی آئی ٹی انجینیر کو 23 فروری کو غزہ کی پٹی سے باہر کمپیوٹر سے متعلق ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے سفر کے دوران حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی ہیکر کی شناخت مجد جواد محمد عویضہ کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 23 سالہے اور وہ غزہ کی پٹی میں الرمال کالونی کا رہائشی ہے
