اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینیوں کو جمع ہو کر احتجاج کرنے پر پابندی لگانے پر غور شروع کیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی 2 نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی کابینہ اپنے ہفتہ وار اجلاس میں مسجد اقصیٰ کے باہر فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی کے بارے میں غور کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو بتایا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم الشیخ رائد صلاح کی اسلامی تحریک مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس پر بھی پابندی لگانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
صہیونی ٹی وی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کابینہ اگلے چند روز میں اپنا ہفتہ وار اجلاس بلانےکا ارادہ رکھتی ہے جس میں بیت المقدس میں سیکیورٹی سخت کرنے اور فلسطینیوں کو مظاہروں سے روکنے کا کوئی نیا لائحہ عمل جاری کرے گی۔ اس ضمن میں فلسطینی کارکنوں اور اسلامی تحریک کے رہ نماؤں کی گرفتاریوں کے احکامات بھی دیے جا سکتے ہیں۔
کل جمعہ کو اسرائیلی وزیر داخلہ "ایلی یچائی” نے کہا تھا کہ پولیس کو امن وامان کے قیام کی خاطر فلسطینیوں کو گڑ بڑ پھیلانے سے ہر صورت پر روکنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب مسجد اقصیٰ میں موجود نمازیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تصادم ہوا اور پولیس کو مداخلت کر کے یہودی آباد کاروں کو پیچھے ہٹانا پڑا تھا۔
قبل ازیں بدھ کو اسرائیلی وزیرداخلہ اچانک بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب اسرائیلی پولیس کنٹرول روم میں جا پہنچے تھے۔ پولیس نے اسرائیلی وزیر کی ایک حساس مقام میں آمد پر حیرت کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر پولیس افسران کی جانب سے وزیرداخلہ کو بتایا گیا کہ یہودیوں کی عید کے موقع پر فلسطینیوں
اور یہودی آباد کاروں کے درمیان تصام کا قوی امکان موجود ہے اور اس میں انہیں فوج کی مدد کی بھی ضرورت ہوگی۔ وزیرداخلہ نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ فلسطینیوں کو حرم قدسی میں داخل ہونے سے روکیں تاکہ یہودی آباد کار آزادانہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
