اسرائیلی وزیر برائے آباد کاری "اورے ارئیل” نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر سلفیت میں ایک نئی یہودی کالونی کی تعمیر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا یہ کالونی”لشم” کے نام سے قائم کی جا رہی ہے جو علاقے میں پہلے سے تعمیر شدہ "عالیہ زھاف” کالونی کے بالمقابل تعمیر کی جائے گی
اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی اخبار”معاریف” نے وزیر برائے آباد کاری کا بیان نقل کیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس کالونی میں جلد ہی 70 یہودی خاندانوں کو مکانات الاٹ کر دیے جائیں گے، جبکہ ابتدائی طورپر کالونی میں 400 مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل شدت پسند مذہبی یہودیوں کی نمائندہ تنظیم "جیوش ہوم” سے تعلق رکھنے والے مسٹر آرئیل کا کہنا تھا کہ انہیں مشرق وسطیٰ میں مسئلے کا دو ریاستی حل عملا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ "دوریاستی حل” کا فارمولہ اب فراموش کیا جا چکا ہے اور یہ کبھی عملی شکل میں نہیں آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور فلسطین کےدیگر علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل جاری رکھیں گے۔
صہیونی شدت پسند وزیر نے یہ بات زور دے کرکہی کہ فلسطینی ریاست مغربی کنارے کے علاقوں پر قائم نہیں ہوگی اور نہ ہی دریائے اردن کا مغربی علاقہ فلسطینی ریاست میں شامل کیا جائے گا۔ اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مغربی کنارے کے جس جس علاقے کو چائے صہیونی ریاست کا اٹوٹ انگ قرار دے۔
