سنہ 1967ء سے مشرقی القدس پر قابض اسرائیل کی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی نے سلوان کالونی کے عین وسط میں یہودی آباد کاروں کے لیے ایک پارک تعمیر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیانمیں کہا گیا ہے کہ پارک یہودی تاریخی آثار پر مشتمل ہوگا۔
بیان کے مطابق اس پروجیکٹ کو ایک یہودی سیاحتی تنظیم نے پیش کیا ہے، منصوبے کے مطابق پانچ ہزار مربع میٹر کی مسافت پر پھیلے اس سیاحتی کمپلیکس میں کانفرنس ہالز، کیفے ٹیریا، شو رومز اور سیاحوں کی دلچسپی کی تمام اشیاء موجود ہونگی۔
اس کمپلیکس کی نظامت کی ذمہ داری ’’العاد‘‘ تنظیم کی ہو گی، یہ ایک انتہاء پسند یہودی تنظیم ہے جو مشرقی القدس میں یہودی آباد کاری کےلیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، یہ منصوبہ بھی اس مقدس اور بابرکت شہر کو یہودیانے کی انہیں کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

