اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے ’’شاباک‘‘ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ سے 10 فلسطینیوں کا ایک گروپ حراست میں لیا ہے جس پرصہیونی فوجیوں کویرغمال بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیاگیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق شاباک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کا تعلق ’’عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین‘‘ سے ہے اور وہ اپنے محروس لیڈر اورجماعت کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات کی رہائی کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔ خیال رہے کہ احمد سعدات سنہ 2002ء کے بعد سے صہیونی جیل میں قید ہیں۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محروسین جبوبی رام اللہ میں کفر عقب کے مقام پرایک مکان کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتےتھے۔ خفیہ اداروں کواس گھر میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں شبہ ہوا جس پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے ایک درجن کے قریب نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دوران تفتیش انہوں نے مبینہ طورپر اعتراف کیا ہے کہ وہ احمد سعدات کی رہائی کے لیے صہیونی فوجیوں پر حملے کرنے یا انہیں اغواء کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق فلسطینی مزحمت کاروں نے اپنے زیراستعمال مکان کو کسی یرغمال فوجی کے خفیہ ٹھکانے کے طورپر تیارکرلیا تھا
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
