فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی کے مجاھدین اور صہیونی فوج کے درمیان تازہ کشیدگی ایک نئی جنگ کی طرف لے جا رہی ہے۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ کسی بھی وقت فوج کو غزہ کی پٹی میں داخل کرسکتا ہے۔
اس دھمکی کے ساتھ ساتھ صہیونی فوج کو ہائی الرٹ بھی کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ انہیں صہیونی حکومت اور فوج کی گیدڑ بھبکیوں کی کوئی پرواہ نہیں، اسرائیل نے جنگ مسلط کی تو غزہ کو اس کا قبرستان بنا دیں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملہ ایک ایسا آپشن ہے جس سے فرار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چار سال قبل غزہ پر کیے گئے حملے کے بعد آج ایک مرتبہ پھرغزہ کی پٹی پر بڑے حملے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
صہیونی فوجی عہدیدار کا یہ بیان اخبار’’معاریف‘‘ نے نقل کیا ہے۔ صہیونی جرنیل کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج کی اعلیٰ سطحی کمان نے غزہ کی پٹی پر حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی عسکری اور سیاسی قیادت غزہ کی پٹی پر حملے کے لیے لائحہ عمل طے کر رہی ہیں۔
ادھر فلسطینی تنظیم حماس نے صہیونی دھمکیوں کو گیڈر بھبکیاں قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی دشمن کو چار سال قبل بھی غزہ کی پٹی پر جنگ کے دوران ناک رگڑنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔ شہر پر دوبارہ حملہ ہوا تو غزہ صہیونی فوج کا قبرستان ثابت ہوگا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
