اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ ایک ہفتہ پیشتر اس نے فوجی اہلکاروں کو ایک منظم اسکیم کے تحت فوجی وردیوں میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے اوراس کی بے حرمتی کے لیے وہاں داخل کیا تھا۔
صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ سنہ 2001ء کے بعد سے اب تک بیس سال کے عرصے میں اسرائیلی فوجیوں کو وردی میں قبلہ اول میں داخل کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "ٹی وی 10″ میں ایک رپورٹ نشر کی گئی ہے جس میں فوج کی جانب سے اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ انہوں نے گذشتہ اتوار آٹھ جنوری کو وردی میں ملبوس فوجی اہلکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخل کیا تھا۔ فوجی اہلکاروں نے مسجد اقصیٰ کی محافظ تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن اینڈٹرسٹ” کی اس رپورٹ کو درست قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کے وردی میں ملبوس کئی اہلکار قبلہ اول میں داخل ہو کر اس کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے یہ رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد اس واقعے کو اسرائیلی میڈیا میں بڑے پیمانے پر اچھالا گیا ہے۔
فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسلامی تحریکوں کے ماہر ایڈووکیٹ زاھی نجیدات نے اسرائیلی ٹی وی کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "قبلہ اول میں اسرائیلی فوج کی وردی میں آمد ایک خاص منصوبے کا حصہ ہے۔ قبلہ اول میں یہودی آبادکاروں کی آمد کا سلسلہ تو جاری رہتا ہی ہے اسرائیلی اپنی فوج کو بھی وہاں بجھوا کر کسی نہ کسی شکل میں اپنا وہاں پر وجود ثابت کرنا چاہتا ہے۔ بنیادی طور پر اس منصوبے کا مقصد مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانا اور قبلہ اول کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے اپنے دیرینہ خواب کو پورا کرنے کی سازش کو آگے بڑھانا ہے”۔

