شمالی فلسطین کے قدیم ساحلی شہر عکا میں صہیونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسی کے نتیجے میں شہر تباہی سے دوچار ہے۔ حال ہی میں سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقے عکا میں ایک بوسیدہ عمارت گرنے سے کم سے کم پانچ فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکومت کی جانب سے عرب اکثریتی علاقے کو صرف اس وجہ سے مسلسل نظراز کیا جا رہا ہے کہ وہاں یہودیوں کے بجائے مسلمانوں اور عربوں کی اکثریت ہے۔
مقامی فلسطینی شہریوں اور نمائندہ شخصیات نے صہیونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مقامی آبادی نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی ظالمانہ پالیسی اور یہودیوں کی نسل پرستی کا نوٹس لیتے ہوئے عکا شہر کے فلسطینی باشندوں کو ان کے حقوق کی فراہمی میں مدد کریں۔
اسرائیلی کنیسٹ کے سابق رکن عباس زکور نے "قدس پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عکا میں بوسیدہ عمارت گرنے سے پانچ فلسطینیوں کی موت کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو بنیادی سہولیات سے یکسر محروم رکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مقامی عرب آبادی پرانے اور بوسیدہ مکانوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے بوسیدہ عمارت تلے دب کر پانچ افراد کے جاں بحق اور تیرہ کے زخمی ہونے کے المناک واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عباس زکور کا کہنا تھا کہ عکاء کے مفلوک الحال عوام کی مشکلات بیان کرنا بھی نہایت تکلیف دہ ہے۔ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اسرائیل کےتمام ریاستی ادارے عکا کی عرب آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں دانستہ غفلت کا مظاہرہ کررہےہیں۔
ایک سوال کے جواب میں عرب کمیونٹی سے صہیونی ریاست کے سابق رکن پارلیمنٹ عباس زکور نے کہا کہ عکا تاریخی اور سیاحتی اعتبار سے بھی ایک پرفضاء مقام ہے لیکن فلسطینیوں کی اکثریت کی وجہ سے صہیونی حکومتیں اسے مسلسل نظر انداز کررہی ہیں۔ انہوں نے مسلمان اور عرب ممالک سے بھی عکا کے شہریوں کی فی الفور مدد کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
