اپنی رہائی کے بعد مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے خالد طافش نے اندرون اور بیرون فلسطین مقیم تمام ہم وطنوں کو عید الفطر کی مبارکباد دی۔ انہوں نے اسیران کی جانب سے بھجوائے گئے پیغام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ”اسیران دراصل فلسطینی قوم کی آزادی کا ٹیکس اپنی اسیری کی شکل میں ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، وہ فلسطینی قوم کی آزادی و استقلال کی راہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ اسیران کو ان کا مستحق مقام دلوائیں۔
درایں اثنا خالد طافش نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مغربی کنارے میں انتخابات کے انعقاد کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب منتخب فلسطینی نمائندے اسرائیلی جیلوں میں گل سڑ رہے ہوں اور ان کے متعدد ساتھیوں کو جبری جلا وطنی پر مجبور کیا جا رہا ہو، ایسے میں انتخابات کا ڈول ڈالناعجب بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی رہائی کے باوجود دوسرے منتخب فلسطینی پارلیمنٹرینز کی گرفتاری کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا کیونکہ جب تک اسرائیل ہماری زمین پر موجود ہے اس وقت تک ان کی جیلوں کے دروازے ہم سمیت دوسرے تمام افراد کے لئے کھلے رہیں گے۔ یاد رہے کہ خالد طافش مرج الزہور کے جلاوطنوں میں شامل تھے اور وہ بیت لحم میں اسلامی تحریک کے سرکردہ رکن ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی اور سماجی خدمات کی پاداش میں دس برس اسرائیل کی قید میں گزارے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
