نام نہاد اسرائیل میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ کے تازہ انکشاف کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ وادی اردن میں ’’جفعات سلعیت‘‘ کے نام سے
نئی یہودی بستی تعمیر کرنے کی اجازت دیدی ہے، یہ اقدام اسرائیلی حکومت کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کے اعلان کے علی الرغم اٹھایا گیا۔ تنظیم کی سرگرم کارکن حاجیت اوفران پیر کی شام ذرائع ابلاغ کے لیے جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت عالمی تنقید سے بچنے کے لیے اس یہودی آبادی کو قانونی جواز دینے سے کترا رہی ہے اسی لیے اس بستی کا اعلان کھلے عام نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ یہودی آبادی وادی اردن کے شمالی حصے میں تعمیر ہوگئی جسمیں چودہ خاندان آباد ہونگے، اس آبادی کا سنگ بنیاد ستمبر 2001ء میں رکھا گیا تھا، تاہم اسرائیل کے ’’روڈ میپ‘‘ کے مطابق اس پر لازم ہے کہ وہ وادری اردن میں مارچ 2001ء کے بعد سے تعمیرکی گئی تمام آبادیوں کو خالی کرے۔ تنظیم نے بتایا کہ حالیہ یہودی آبادی دراصل قریب موجود یہودی بستی ’’میحولا‘‘ کا ہی ایک پھیلاؤ تصور کی جائے گی، منصوبے کے مطابق ایک روڈ کے ذریعے پرانی اور نئی بستی کے درمیان فرق کرنے کے لیے ایک سڑک بنائی جائے گی، یاد رہے کہ اسرائیل بالکل اسی طرح چند ماہ قبل شیلو یہودی بستی کے قریب ہی ’’شفوت راحیل‘‘ نامی بستی کی منظوری دے چکا ہے۔ خیال رہے کہ ایک ماہ قبل ہی اسرائیلی حکومت نے راحلیم، بروخین اور سنسانا کے نام سے تین یہودی آبادیاں تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
