اسرائیلی حکام نے فلسطین کے مقبوضہ وادی اردن کے شمال میں طوباس شہر میں زیرتعمیر جامع مسجد کی تعمیرکا کام جاری رکھنے پرپابندی عاید کردی ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی وزارت داخلہ کے زیرانتظام ’’ہائوسنگ و پلاننگ اتھارٹی‘‘ کی جانب سے تحریری طورپر مقامی فلسطینی آبادی کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا کام روک دیں، اگر تعمیراتی کام نہ روکا گیا توحکام اسے خود ہی مسمارکردیں گے۔
صہیونی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے قبل اسرائیلی انتظامیہ سے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ اس لیے مسجد کی تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔
خیال رہے کہ طوباس میں کردلہ کے مقام پر یہ پہلی جامع مسجد ہے جس کی تعمیرات کا کام پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر پابندی کے باعث سیکڑوں فلسطینیوں کو مسجد سے محروم کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ وادی اردن میں فلسطینیوں کو صرف مسجد کی تعمیر سے نہیں روکا گیا بلکہ اس سے قبل صہیونی حکام مختلف حیلے بہانوں سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا غیرقانونی سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
اسرائیلی حکام نے فلسطین کے مقبوضہ وادی اردن کے شمال میں طوباس شہر میں زیرتعمیر جامع مسجد کی تعمیرکا کام جاری رکھنے پرپابندی عاید کردی ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی وزارت داخلہ کے زیرانتظام ’’ہائوسنگ و پلاننگ اتھارٹی‘‘ کی جانب سے تحریری طورپر مقامی فلسطینی آبادی کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا کام روک دیں، اگر تعمیراتی کام نہ روکا گیا توحکام اسے خود ہی مسمارکردیں گے۔
صہیونی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے قبل اسرائیلی انتظامیہ سے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ اس لیے مسجد کی تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔
خیال رہے کہ طوباس میں کردلہ کے مقام پر یہ پہلی جامع مسجد ہے جس کی تعمیرات کا کام پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ مسجد کی تعمیر پابندی کے باعث سیکڑوں فلسطینیوں کو مسجد سے محروم کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ وادی اردن میں فلسطینیوں کو صرف مسجد کی تعمیر سے نہیں روکا گیا بلکہ اس سے قبل صہیونی حکام مختلف حیلے بہانوں سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا غیرقانونی سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔