مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان کالونی کی دفاعی کمیٹی نےانکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی اتھارٹی نے سلوان کے شمالی علاقے میں مسجد اقصی کے قریب پچاس مصنوعی قبریں بنا لی ہیں جس کا مقصد لگ بھگ بیس ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنا ہے۔
کمیٹی کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ مسجد اقصی کے قریب قبروں کی کھدائی مکمل کر چکی ہے۔ اسرائیل قدیم قبرستان کے بہانے اس علاقے کو مسجد اقصی کی دیواروں سے الگ کر کے اس جگہ باغ داؤد بنانا چاہتا ہے۔ منصوبہ بندی کے مطابق یہودی قبرستان کے ایک حصے کے طور پر یہاں یہودی میوزیم تیار کیا جائے گا۔ اس علاقے کو یہودی رنگ میں رنگنے کے بعد مسجد اقصی اور القدس کی اولڈ میونسپلٹی کےاطراف یہودی بستیوں کا گھیراؤ مکمل ہو جائے گا۔
سلوان کے تحفظ کی کمیٹی کے رکن فخری ابو دیاب نے بتایا کہ سلوان کالونی میں تمام چھوٹے منصوبے دراصل بڑے یہودی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل سلوان کی بیس ایکڑ اراضی کو استعمال کرے گا۔ اسرائیل اس علاقے میں پوری خاموشی سے درجہ بدرجہ اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ اس دوران تعمیراتی میٹریل کے ٹرک بڑی خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہیں، کھدائیوں کا ملبہ بھی بڑی تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے اور اس پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے سلوان کالونی کی شاہراہوں اور گلیوں میں 320 سکیورٹی کیمرے نصب کر دیے ہیں۔ فخری دیاب کا کہنا تھا کہ ان کیمروں کے ذریعے اسرائیلی سلوان کالونی اور مقبوضہ بیت المقدس میں بسنے والے فلسطینیوں کی تمام چھوٹی سے چھوٹی حتی کے گھروں کے اندر کی جانے والی حرکات پر بھی نظر رکھ سکے گا۔

