اقصی فاؤنڈیشن برائے و قف و آثار قدیمہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی نام نہاد آثار قدیمہ اتھارٹی اور دیگر اداروں نے القدس کی اسلامی اور عربی شناخت کو مسخ کرنے کے مختلف پروگرام شروع کر دیے ہیں۔ سماجی و ثقافتی ترقی کے نام پر صہیونی اداروں نے القدس کے مختلف علاقوں بالخصوص اولڈ میونسپلٹی کے اسلامی آثار قدیمہ کو مسخ کرنا
شروع کر رکھا ہے۔
مسجد اقصی اور اس کے اطراف یہودیانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اسرائیل نے علاقے کے آثار قدیمہ کیے تاریخی پتھروں کو چوری کر کے فلسطینی عجائب گھر اور سلطان سلیمان روڈ پر موجود میوزیم ”روکفلر” میں منتقل کر دیا ہے۔ جہاں پر ان پتھروں میں ترمیم کی جائے گی۔
اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ آثار قدیمہ اتھارٹی نے شاہر اہ الواد کے بہت سے تاریخی پتھروں اور دیگر آثار قدیمہ کی اشیا ء چوری کر لی ہیں، اسرائیلی حکومتی اداروں نے اس وقت القدس کی اولڈ میونسپلٹی میں جگہ جگہ کھدائی شروع کر دی ہیں، مسجد اقصی کے قریب موجود اموی محلات اور سلوان کے علاقے خصوصی طور پر اسرائیل کا ہدف ہیں۔
اقصی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ القدس میں فلسطینی آثار قدیمہ کو تباہ کر نا اور ان میں تبدیلی صرف اخلاقی جرم نہیں بلکہ تمام عالمی قوانین کی صریح توہین بھی ہے۔ فاؤنڈیشن نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے مطالبہ کیا کہ القدس میں اسرائیل کو آثارقدیمہ اور تاریخی آثار کی لوٹ مار سے روکا جائے ۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
