فلسطینی صدرمحمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ مزاحمت کاروں کے خلاف وحشیانہ اندازمیں کریک ڈاؤن کا مقصد علاقے میں اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ احتجاجی تحریک کو قبل از وقت کچلنا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے رام اللہ اتھارٹی کے اس اقدام کو بڑے پیمانے پر کوریج دی ہے۔ اسرائیلی فوج کی مقرب خیال کی جانے والی نیوز ویب سائیٹ "وللا” کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے ویسے تو تمام مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے مگر اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کے کارکنان اور رہ نما اس کا خاص ہدف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو گزشتہ ہفتے الخلیل اور قلقیلیہ میں اسرائیل کے دو فوجیوں کی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہلاکت پر گہرا دکھ ہے۔ ان واقعات کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کی اسرائیل مخالف کارروائیوں میں اضافے کے پیش نظر مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
عبرانی نیوز پورٹل "وللا” کے مطابق فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ چند ایام سے مغربی کنارے میں حماس کے حامیوں اور جماعت کے کارکنوں کے خلاف ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔اس آپریشن میں اب تک حماس اوراسلامی جہاد کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل نے فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان گرفتاریوں کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی مزاحمتی تحریک کو پنپنے سے روکنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اکسانے والے کسی سیاسی، مزاحمتی اور مذہبی رہ نما کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ بالخصوص مغربی کنارے میں مزاحمتی تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
رپورٹ میں اسرائیلی سیکیورٹی ذرآئع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے مغربی کنارے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں مگر مشکل یہ درپیش ہے کہ ان حملوں میں فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں ملوث نہیں ہیں۔ اس لیے اصل ملزمان تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس اور دیگر مذہبی جہادی عناصر مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی اسکیمیں بھی تیار کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جاری امن مذاکرات کو تعطل میں ڈالا جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
