مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تحریک فتح کے ترجمان رافت علیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی وزیراعظم نیتن یاھو نے انتہاپسند اور فلسطینیوں کے خون کی پیاسی ایک خاتون ’’آئیلیٹ چکیڈ‘‘ کو وزیرارت قانون وانصاف کا عہدہ دے کر اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس طرح جنگی جرائم چھپتے نہیں بلکہ نمایاں ہوکر سامنے آ رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی انتہا پسند حکومت جس راستے پرچل ررہی ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے کوئی سیاسی اور امن عمل کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے خطے میں مزید انتشار پھیلے گا۔ اسرائیل میں قائم ہونے والی نئی کابینہ میں انتہا پسندوں کوشامل کرکے حقائق کو ٹھکرانے اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک نئی کوشش کی گئی ہے۔
تحریک فتح کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نئی حکومت سے کسی قسم کے خیر کی کوئی توقع نہیں کیونکہ اس کابینہ میں سب انتہاپسند ہیں۔ انتہا پسند امن اور مفاہمت کا عمل سبوتاژ کرتے ہیں۔ موجودہ کابینہ کے ساتھ امن کی بات کرنا اور توقع رکھنا بے معنی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے حال ہی میں اپنی نئی کابینہ میں آییلٹ چکیڈ نامی ایک خاتون کو وزارت قانون و انصاف کا عہدہ سونپا ہے۔ چکیڈ ماضی میں فلسطینیوں کے ساتھ نفرت کے اظہار میں خوب شہرت کما چکی ہیں۔ پچھلے سال غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے وقت اس نے فلسطینیوں کی مائوں کو ذبح کرنے کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ فلسطینیوں کی مائیں جنگجو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے انہیں ذبح کردیا جانا چاہیے۔ موصوفہ نے فلسطینیوں کو سانپ اور دہشت گرد بھی کہا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
