اسرائیلی میڈیا نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمت کاروں کی جانب سے قابض فوجیوں کے اغواء کی کوششوں میں پچھلے چند ماہ کے دوران غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار "ہارٹز” نے اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے خفیہ گروپوں کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر حملوں میں غیرمعمولی اور مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر میں مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی شہروں میں اسرائیل فوجیوں پر 136 حملے ہوئے تھے جبکہ نومبرمیں یہ تعداد 167 کارروائیوں تک جا پہنچی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ستمبر کے بعد سے اب تک اسرائیل فوجیوں کے اغواء کی گیارہ بڑی کارروائیاں ناکام بنائی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں اکتوبر میں 71 مزاحمتی کارروائیاں ریکارڈ کی گئی تھیں جبکہ نومبر میں 107 حملے کیے گئے۔ اسی طرح بیت المقدس میں اکتوبر میں اسرائیلی فوج پر 32 حملے کیے گئے اور نومبر میں 53 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار روز بہ روز مغربی کنارے میں تقویت پکڑ رہے ہیں اور وہ اپنے ساتھیوں اور دوسرے فلسطینیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی انٹیلیجنس ایجنسی "شاباک” نے چند ہفتے قبل سیکیورٹی اداروں کو وارننگ جاری کی تھی کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ان کے اغواء کے حملے ہوسکتے ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کے مزاحمت کار اسرائٰیلی فوجیوں کو یرغمال بنانے کے لیے ان سے پہلے سوشل میڈیا پر دوستیاں کرکے بعد ازاں انہیں کسی بہانے سے قتل یا اغواء کرسکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
