فلسطین میں دفاعی امور کے ماہرین نے اسرائیلی فوج کی جانب سے محصور شہر غزہ کی پٹی میں حملوں میں شدت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان حملوں کو آزمائشی قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بری، بحری اور فضائی حملے کر کے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا مزاحمت کاروں میں جوابی کارروائی کے لیے کتنا دم خم ہے اور کسی بڑی جنگ کی صورت میں آیا مزاحمت کار کس حد تک دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فلسطین کے سیاسی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور صہیونی امور کے ماہر ڈاکٹر عدنان ابو عامر نے مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل ان حملوں کے ذریعے مزاحمت کاروں کویہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بیدار ہے اور کسی بھی وقت ان کےخلاف بڑی جنگ شروع کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل فلسطینی مزاحمت کاروں کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ گوکہ اس کے سامنے لبنان اور ایران جیسے محاذ بھی کھلے ہوئے ہیں لیکن وہ ان محاذوں کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی پر بھی کسی بڑی جنگ سے گریز نہیں کرے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ اسرائیلی فوجی حملوں کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں سے خوف زدہ یا لا پرواہ نہیں ہے۔ نیز یہ کہ وہ مزاحمت کاروں کی بڑھتی دفاعی صلاحیت سے بھی غافل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کو کسی نہ کسی شکل میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ امن کے ان دنوں میں مزاحمتی گروپ خود کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے پر توجہ نہ دے سکیں۔
فلسطین کے ایک دوسرے تجزیہ نگارتوفیق ابو شمر نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات چیت میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے ایک فوجی کے قتل کا انتقام لینے کے لیے پوری تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ایک مزاحمت کارکے ہاتھوں صہیونی فوج کے جس اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس کا تعلق گولانی یونٹ سے ہے جو اسرائیل کی اہم ترین یونٹ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم اسرائیل کو یہ بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس گولانی یونٹ کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی بھی پوری پوری صلاحیت موجود ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

