اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے زیرحراست ممتاز فلسطینی عالم دین شیخ ناظم ابو صلاح کو یہودیوں پرحملوں کی ترغیب کے الزام میںتین سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔
شیخ ناظم ابو صلاح مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے دور میں قبضے میں لیے گئے ایک شہر کی جامع مسجد کے امام اور خطیب ہیں اوران کا تعلق اسرائیلی قبضے سے آزادی کےخلاف جدو جہد کرنے والی تنظیم اسلامی تحریک سے بھی بتایا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق منگل کو شیخ ناظم کو مقبوضہ بیت المقدس کی ایک مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کےخلاف فوجی پراسیکیوٹرجنرل اور دیگر صہیونی وکلاء نے دلائل دیے۔ عدالت نے یک طرفہ موقف سننے کے بعد ناصرہ شہر کی جامع مسجد شہاب الدین کے امام و خطیب شیخ ناظم کو تین سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا۔
صہیونی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شیخ ناظم اپنے بااثر شخصیت کی آڑمیں لوگوں کویہودیوں پرحملوں اور تشدد کی ترغیب دیتے ہیں اور وہ کئی مرتبہ اپنی تقریروں میں القاعدہ کی حمایت کرچکے ہیں۔ ان کی تقریریں دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہی ہیں جس سے فلسطینیوں میں یہود مخالف جذبات جنم لیتے ہیں۔
دوسری جانب ملزم نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کےخلاف عدالت میں پیش کیے گئے دلائل میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں اسرائیلیوں پرحملوں کی بات نہیں کی البتہ وہ فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حمایت اور اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے رہیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
