فلسطین کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین” نے رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کی ایک مرتبہ پھرمخالفت کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے۔ عوامی محاذ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے مذاکرات کا ڈھونگ رچانے والے قوم کے حقیقی نمائندہ نہیں بلکہ دشمن کے ایجنٹ ہیں۔ فلسطینی عوام کو ان مذاکرات کو مسترد کردینا چاہیے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عوامی محاذ کےسیاسی شعبے کے رکن ابو احمد فواد نے رام اللہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے مذاکرات کا فیصلہ یک طرفہ طورپر کیا ہے۔ اسرائیل سے مذاکرات کی بحالی سے قبل اس پرتنظیم آزادی فلسطین یا کسی دوسرے نمائندہ فورم پر بحث کے لیے پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان کی جماعت کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ اسرائیل سے ڈھونگ مذاکرات میں قوم کی حقیقی نمائندہ قیادت شامل نہیں بلکہ ایک مخصوص مفاداتی گروہ کی سازش ہے جو دشمن کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں احمد فواد کا کہنا تھا کہ کسی فرد واحد یا گروپ کو اپنے فیصلے پوری قوم پر مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر قوم کے نمائندہ اداروں کو بائی پاس کرکے صہیونیوں سے مذاکرات کیے جائیں گے تو قوم ایسے مذاکرات کار مفاداتی ٹولےکومسترد کردے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے مذاکرات کی بحالی ماضی میں ناکام ہونے والے تجربات کا اعادہ ہے۔ ان مذاکرات نے فلسطینی عوام کی مشکلات اور مصائب میں اضافہ کیا ہے۔ احمد فواد نے تمام فلسطینی نمائندہ جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی دشمن کے ساتھ کوئی اور "اوسلو” معاہدہ ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں تاکہ مسئلہ فلسطین اور قومی حقوق کا دفاع ممکن بنایا جاسکے۔
عوامی محاذ کے رہ نما کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اسرائیل سے مذاکرات کے ڈھونگ کی مخالفت اور مذاکرات کےخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے دیگر فلسطینی سیاسی اور مذہبی جماعتوں پربھی زور دیا کہ وہ فراڈ مذاکرات کےخلاف سڑکوں پر نکلیں اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے مذاکرات کو روک دیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
