عبرانی میڈیا نے یہ انکشاف کی ہے کہ اسرائیلی وزارت انصاف آج کل ایک نئے بل کی منظوری کے لئے کام کررہی ہے جس سے حکام بھوک ہڑتالی اسیران کو قانونی طریقہ سے زبردستی کھانا کھلا سکیں گے۔
عبرانی اخبار ھارتس نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ”یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جبکہ بھوک ہڑتال پر جانے والے فلسطینی اسیران کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔
اس نئی قرارداد کے مطابق عدالت اس اسیر کے مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے اس کے وکیل کو نمائندگی کرنے کا موقع دیتے ہوئے اور اس اسیر کا موقف سننے کے ساتھ ساتھ ایک میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے لئے پیروی کرے گی جو کہ بتائے گی کہ اگر اس اسیر نے بھوک ہڑتال جاری رکھی تو اس کی جان کو خطرہ ہوگا۔
اخبار نے بتایا کہ ان نئے تجاویز کو جلد ہی اٹارنی جنرل کے سامنے بحث کے لئے پیش کیا جائیگا۔
اخبار نے مزید بتایا کہ پچھلے سال بہت سے اسیران نے بہت لمبے دورانیوں کے لئے بھوک ہڑتال کردیا تھی جس کی وجہ سے حکومتی وزارتوں کو اٹارنی جنرل کے پاس جانا پڑا اور اس صورتحال پر بات کرنے کے لئے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنی پڑی۔
ھارتس نے بتایا کہ ان ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا ایک قرارداد سامنے آئی جس کے نتیجے میں جیل حکام بھوک ہڑتالی اسیران کو اس صورت میں زبردستی کھانا کھلا سکیں گے اگر اس کی جان خطرے میں ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
