مغربی کنارے کے متعدد فلسطینی اراکین پارلیمان نے صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے سیاسی گرفتاریوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بالخصوص 73سالہ بزرگ ترین رکن پارلیمان کو مسلسل چھ روز سے بھوک ہڑتال کرنے کے باوجود انتظامی حراست ڈالے رکھنے کے غیر انسانی اقدام کی شدید مذمت کی۔
فلسطینی اراکین پارلیمان کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے لیےجاری بیان میں کہا گیا کہ عمر رسیدہ الحاج علی اور فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر سمیت دیگر اراکین کی گرفتاری عالمی قوانین کی توہین ہے۔ صہیونی درندگی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی عالمی برادری بھی جرم میں برابر کی شریک ہے۔
مسلمان اراکین پارلیمان نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون بین الاقوام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے پارلیمنٹیرینز کی رہائی کے لیے کردار ادا کرے تاکہ صہیونی عقوبت خانوں میں بدسلوکی کے شکار قابل احترام فلسطینی اراکین پارلیمان کو آزاد رہنے کا حق دلایا جا سکے۔
اس موقع پر فلسطینی اراکین پارلیمان نے فلسطینی اتھارٹی سے بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے اور اسرائیل پر چھ روزہ بھوک ہڑتال کرنےوالے الحاج علی کی رہائی کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی مقننہ کے اراکین کا کہنا تھا کہ عمررسیدہ رکن پارلیمان سمیت بھوک ہڑتال کرنے والے کسی فلسطینی اسیرکو کچھ ہوا تو ساری ذمہ داری اسرائیلی حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد ہو گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

