اسرائیلی پارلیمنٹ نے خلافت عثمانیہ کے دوران سنہ 1915میں آرمینائی باشندوں کے قتل عام کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس کا تفصیلی احاطہ ترک پریس نے انتہائی زیر انداز میں کیا ہے۔
ترکی کے "زمان”، "یانی صفک” اور "ملی” جیسے صف اول کے اخبارات نے اسرائیلی کنیسٹ کی اس کارروائی کا ٹھٹہ اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں نیوکلا سرکوزی کی سابق حکومت بھی آرمینائی باشندوں کے مبینہ قتل عام سے انکار کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دلوانے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ترک اخبارات نے اسرائیل کی صہیونی لابی کے ردعمل کا بھی احاطہ کیا ہے۔ اس ضمن میں کنیسٹ کے اسپیکر روی ریولن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی یا اس کی موجودہ حکومت کو اس معاملے کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس ایشو کو سیاسی طور پر نہیں اچھالنا چاہئے۔
متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترکی کے حوالے سے اپنی مسلسل غلطیوں کی وجہ سے اسرائیل کی پوزیشن انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ ترکی ان تین شرائط پر عملدرآمد کا انتطار کر رہا ہے کہ جو انقرہ نے اسرائیل سے تعلقات بہتری کے لئے پیش کی تھیں۔ ترکی نے دو برس قبل محصورین غزہ کے لئے امدادی سامان لیجانے والے ماوی مرمرہ نامی جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں نو ترک رضاکاروں کی شہادت پراسرائیل سے معافی اور متاثرہ خاندانوں کے لئے معاوضے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
کادیما پارٹی کے ترجمان رابرٹ ٹیبائیو نے کنیسٹ میں آرمینائی پاشندوں کے قتل عام کے مسئلے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو حکومت اس معاملے میں مداخلت نہ کرے اور اس قضیئے کو بین الاقوامی برادی اور مؤرخین کے لئے چھوڑ دے۔
عبرانی اخبارات میں شائع ہونے والی بعض اطلاعات سے عندیہ ملتا ہے کہ اسرائیل میں بنجمن نیتن یاہو کی حکومت ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات میں "پوائنٹ آف نو ریٹرن” کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تل ابیب آئے روز ایسے متنازعہ امور کو ہوا دینا اپنا فرض عین سمجھتا ہے کہ جس کے سامنے آنے پر انقرہ سے اس کے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہوں۔ ایسے اقدامات سے اسرائیلی کی عالمی تنہائی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ماضی میں دوست سمجھے والے ممالک تل ابیب سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
