فلسطین میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے اور سیکیورٹی حکام فلسطینی اسیران سے تفتیش کے لیے قیدیوں کے اقارب کو ان پرنفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم انسانی حقوق کمیٹی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی سے متعلق خفیہ ادارہ‘‘شاباک’’ اسیران کے اقارب کوان پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں پرظلم اور تشدد کے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک حربہ نفسیاتی تشدد کا بھی ہے۔ حال ہی میں تنظیم کو صہیونی جیلوں میں شاباک کے ہاتھوں نفسیاتی تشدد سے متعلق 54 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی تفتیش کار فلسطینی قیدیوں سے تفتیش کے دوران ان کے اقارب کو نفسیاتی اور ذہنی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سینکڑوں شکایات کے باوجود صہیونی تفتیش کاروں کے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ بدستور فلسطینیوں پر نفسیاتی دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق گروپ کو پہنچنے والی اکیس شکایات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے تفتیش کے دوران صہیونی حکام نے اسیران کو دھمکیاں دیں کہ اگر انہوں نے تفتیش میں تعاون نہ کیا تو ان کے اہل خانہ کو اٹھار کر غائب کردیا جائے گا۔ اسیران کے اقارب کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں ہراساں کرنے کے علاوہ انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے کر اسیران کو نام نہاد الزامات کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ انسانی حقوق گروپ نے دنیا بھرکی بڑی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اسیران کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر اسرائیل کےخلاف سخت ایکشن لیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت بھی کم سے کم پانچ سے چھ ہزار کے درمیان فلسطینی قید ہیں۔ ان میں بعض پر یہودیوں کے قتل جیسے الزامات ہیں اور ان الزامات کے تحت انہیں طویل ترین قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔
