اسرائیل اور عیسائیوں کے مذہبی مرکز ‘‘وٹی کن’’ کے درمیان مقبوضہ بیت المقدس کے چرچوں کےحقوق کو منظم کرنے اور صہیونی ریاست کے ساتھ چرچوں کے بارے میں معاہدے کے بارے میں جاری مذاکرات پر اردن کی حکومت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان صباح الرافعی نے بدھ کے روز ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو اسرائیل اور وٹی کن کے درمیان مقبوضہ بیت المقدس کے چرچوں کے بارے میں جاری مذاکرات پر گہری تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیت المقدس کے چرچوں کو اسرائیل اور وٹی کن کی مشترکہ نگرانی میں دیے جانے بارے جاری مذاکرات پر اردنی وزیرخارجہ نے وٹی کن کے سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیرخارجہ ناصر جودہ نے خدشہ ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے تمام چرچوں کے مالیاتی امور اور ان سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں کی آمدنی کو وٹی کن کو فراہم کردیا جائے کیونکہ اسرائیل اس کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ وٹیکن کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے چرچوں کے ٹیکسوں اور مالی معاملات پر مذاکرات اتنے خطرناک نہیں لیکن یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے جب پوری دنیا بیت المقدس کو ایک متنازعہ علاقہ تصور کرتی ہے۔ ایسے میں وٹی کن کی طرف سے چرچوں بارے مذاکرات بیت المقدس پر یہودیوں کا تسلط تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ وزیرخارجہ نے وٹیکن کے سفیر کو طلب کرکے اسرائیل سے چرچوں کے مالیاتی امور بارے جاری مذاکرات کی تفصیل طلب کی اور مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ ایسا کوئی سمجھوتہ نہ کرے جس سے بیت المقدس کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
