اردن حکام نے گذشتہ ہفتے غیرقانونی کرنسی کے لین دین کے جرم میں حراست میں لیے گئے دو اسرائیلیوں کو رہا کر دیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خبر رساں ایجنسی "قدس پریس” نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ
یہودی آباد کاروں کو دو روز تک حراست میں رکھا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی تاہم گذشتہ روز انہیں رہا کردیا گیا جس کے بعد وہ دوبارہ فلسطین پہنچ گئے ہیں۔
ایک دوسرے ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے یہودی آباد کاروں کو عمان کے ایک ہوٹل میں رکھا گیا۔ اس دوران عمان میں اسرائیلی سفارت خانے نے اردنی وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے حراست میں لیے گئے یہودی آباد کاروں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
ادھر دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہودی شرپسندوں کو رہا کرنے پر عمان حکومت کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک تو مارچ میں اردن کے ایک جج کو فلسطین میں گولیاں مار کر شہید کیے جانے کے سنگین جرم پر بھی اردنی عوام کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ گذشتہ مارچ میں اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ایک اردنی جج کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا، جس پر اردن نے اسرائیل سے رسمی سا احتجاج کیا لیکن اردنی عوام میں آج تک اس گھناؤنی واردات کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
