مصر میں اخوان المسلمون کے سیاسی چہرے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ کے نامزد صدارتی امیدوار محمد مرسی نے اپنی جماعت کی جانب سے کامیابی کے اعلان کے بعد
پیر کو علی الصباح اپنے حامیوں سے انتخابی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے 25 جنوری کے شہدا اور زخمیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے شہید مبارکباد کے مستحق ہیں۔ میں آپ کو اس بات کا دوبارہ یقین دلاتا ہوں کہ میں ملکی قانون کے تحت انہیں ان کے حقوق واپس دلاؤں گا۔
محمد مرسی کا کہنا تھا کہ بطور صدر وہ اپنے سیاسی مخالفین سے حساب چکانے یا انتقام کی کوئی بات نہیں کریں گے۔ وہ تمام مصریوں سے ایک جیسا سلوک کریں گے۔ میں سب کو قانون اور دستور کے مطابق عزت اور احترام دوں گا۔
مصر کے لئے اپنی مشن سٹیٹمنٹ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو مستحکم جدید شہری ریاست بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم دنیا میں امن سے محبت کرنے والوں کے لئے سلامتی کا پیغام لائے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مصر اور مصر سے باہر مقیم مسیحیوں کو اطمیئنان دلایا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا پیغام مصر کے مسلمانوں اور مصری مسیحیوں دونوں کے لئے ہے۔ مصر کی تاریخ میں الازہر اور کلیساء اہم مقام رکھتے ہیں۔ میں آپ سب کے ساتھ والد، بھائی اور مصری شہری جیسا معاملہ رکھوں گا۔ آپ سب لوگ میرے دوست، بھائی اور خاندان کے فرد ہیں۔
کسی سے انتقام نہیں لینا چاہتے بلکہ ہم ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پیر کے روز اخوان المسلمون نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سیاسی چہرے فریڈم اینڈ ڈیولپمنٹ کے نامزد امیدوار محمد مرسی صداراتی انتخاب جیت چکے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل اور مبارک دور کے سابق وزیر اعظم محمد شفیق کی انتخابی مہم کے انچارج نے اخوان کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
محمد مرسی کی الیکشن مہم کے نگران نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے صدارتی انتخاب 52.2فیصد ووٹ لیکر جیتا ہے جبکہ ان کے مدمقابل محمد شفیق کو صرف 47.5 فیصد ووٹ ملے۔ اس طرح مرسی نے کل بارہ ملین اور 743 ہزار ووٹ حاصل کئے جبکہ محمد شفیق کو 11 ملین 846 ہزار ووٹ ملے۔ ووٹوں کی یہ تعداد ملک بھر کے ستانوے فیصد پولنگ اسٹینشز میں کی جانے والی گنتی کے بعد سامنے آئی ہے۔
فوجی کونسل کا متنازعہ اعلامیہ
اتوار کو فوجی کونسل کی جانب سے صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہونے سے چند گھنٹے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بظاہر کونسل نے قانون سازی اور بجٹ کے تمام اختیارات اپنے ماتحت کر لیے ہیں۔ فوجی کونسل’سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز‘ کی جانب سے جاری کردہ اس اعلامیے کے متن کے مطابق ملک میں پارلیمانی انتخابات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نیا مستقل آئین تشکیل نہیں پاتا۔ اعلامئے کے مطابق نئی پارلیمان کے منتخب ہونے تک قانون سازی کا اختیار عسکری کونسل کو منتقل ہو گیا ہے۔ نئی دستاویز کے تحت فوجی کونسل کو ملنے والے اختیار کے تحت ایک پینل تشکیل دیا جائے گا، جو نیا دستور تحریر کرے گا اور اس کی منظوری عوام سے لی جائے گی۔ اس آئینی حکم نامے میں صدر کے اختیارات کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
عسکری کونسل نئے پارلیمانی الیکشن کا اعلان اگلے ایک ماہ کے دوران کرے گی۔ فوجی کونسل کے اعلان سے مبینہ طور پر اسے قانون سازی پر کنٹرول بھی حاصل ہو گا۔ مصر کے نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی نے عسکری کونسل کی دستوری دستاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اجراء کے بعد فوج تمام دستوری اور انتظامی اختیارات کی مالک بن گئی ہے اور اس دستاویز سے صدر کے اختیارات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ البرادعی نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں مزید کہا ہے کہ اس ستوری اعلان کے بعد اب ملکی صدر مصری مسلح افواج کا سپریم کمانڈر نہیں ہو گا۔ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان جمعرات تک کر دیا جائے گا۔
