احمد سعدات اور ان کے دیگر ساتھیوں عاھد ابو غلمہ، حمدی قرعان، باسل اسمر اور مجدی الریماوی کو 14 مارچ2006ء کو حراست میں لیا گیا۔ یوں انہیں اب صہیونی جیل میں پابند سلاسل آٹھ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ان تمام چھ فلسطینی شہریوں کو صہیونی فوج نے ایک ہی روز حراست میں لیا۔ انہیں فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کی پاداش میں اب طویل المدتی قید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ احمد سعدات کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسیر شوبکی کو20 سال، ابو غلمہ کو عمرقید اور پانچ سال اضافی قید، حمدی قرعان کو عمرقید اور 100 سال اضافی قید، باسل اسمر کو 20 عمر قید اور 20 سال اضافی قید جبکی مجدی الریماوی کو عمر قید اور 80 سال اضافی قید کی سزا کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ان تمام اسیران کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے بھی پوری طرح پرعزم اور جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسیران خود بھی دلبرداشتہ نہیں بلکہ ظلم کی اس سیاہ رات کے خاتمے کی توقع کے ساتھ قید کی سیاہ راتیں کاٹ رہے ہیں۔
احمد سعدات صہیونی جیل”جلبوع” میں قید ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے وکیل اور کلب برائے اسیران کے مندوب کے ذریعے اپنا ایک مراسلہ بھی فلسطینی ذرائع ابلاغ تک پہنچایا ہے۔ اپنے اس مراسلے میں عوامی محاذ کے اسیر سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ "ہم جنگی قیدی ہیں۔ ہمارے کچھ حقوق ہیں لیکن جیلوں میں ہمارے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ہمارے بہت سے ساتھی کئی مہلک امراض میں مبتلا ہیں۔
میں فلسطینی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مریض اسیران کو ان کے جائز حقوق یقینی بنانے کے لیے اپنی جدوجہد تیز کریں۔ فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیےعالمی قراردادوں کو موثر بنایا جائے، کیونکہ یہاں جیلوں میں قیدیوں کو صہیونی حکام کی طرف سے علاج کی سہولت تو کیا ہو گی ہمیں جیل کی ڈسپنسری سے خود جا کر دوائی لینے کی اجازت بھی حاصل نہیں ہے”۔
احمد سعدات کا مزید کہنا ہے کہ الرملہ جیل سمیت کئی دوسرے صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بعض قیدی سالہا سال سے علاج اور اپنا چیک اپ کرانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں آرام کی ایک گولی تک میسر نہیں ہے۔
احمد سعدات کے دوسرے ساتھی الشوبکی نے واپنے والد کے نام خیریت نامہ ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے صحت کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کی خیریت کی تمنا کی ہے۔
اسیر ابو غلمہ کی اہلیہ وفاء ابو غلمہ کا کہنا ہے کہ ہم اسیران کی مشکلات سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔ ہم اپنے اسیران کی وجہ سے ہر مشکل برادشت کر رہے ہیں۔ اسیران کی بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے ہم ہر سطح پر کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں عالمی سطح پر وہ مدد نہیں مل رہی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
