مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں بیت المقدس کے سلوان قصبے سے تعلق رکھنے والے دسیوں فلسطینی خاندانوں نے قبلہ اول کے دفاع اور اس کی حفاظت کے ساتھ مسجد کے ساتھ اپنی محبت کا ایک منفرد اظہار کیا۔
پی آئی سی کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق ’’عرس الاقصیٰ‘‘ کے عنوان سے بیت المقدس کے شہریوں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ شہریوں کومسجد اقصیٰ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں کل اتوار کو مسجد اقصیٰ میں اجتماعی’’فیملی ناشتے‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ گذشتہ روز اجتماعی ناشتے میں سلوان سے تعلق رکھنےوالے خاندانوں نے شرکت کی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو علی الصباح ہی فلسطینی خاندانوں کا مسجد اقصیٰ میں آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ گروپوں کی شکل میں آنے والے فلسطینی اپنے ساتھ تیار ناشتہ لے کرآ رہے تھے۔ ان میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد تھی جو مسجد اقصیٰ میں آنے پر بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔
اجتماعی ناشتے کی تقریب بھی کیا خوب تعارفی تقریب تھی جس میں تمام شرکاء نے ایک دوسرے کا تعارف بھی کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ اجتماعی ناشتے ک اہتمام کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک دن اجتماعی فیملی ناشتے کا اہتمام کیا کریں گے۔ قبلہ اول کے دفاع کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کیونکہ دوسری جانب صہیونی حکام اور یہودی انتہا پسند قبلہ اول میں داخل ہوکر غل غپاڑ کرتے اور مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں روکنے کے لیے فلسطینیوں کا قبلہ اول میں زیادہ سے زیادہ تعداد مٰیں زیادہ اوقات میں ہونا ضروری ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
