انسانی حقوق کی یورپی تنظیم نے فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کرنے کرنے کے بعد دوران تفتیش بہیمانہ تشدد سے جان کی بازی ہارنے والے فلسطینی شہری باسٹھ سالہ الحاج سعدی السخل کی شہادت کی فوری اور سنجیدہ نوعیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یورو ۔ مڈ آبزور فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس نے اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس معاملے میں جو کوئی بھی ملوث ہے اسے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔ فاؤنڈیشن نے مغربی کنارے میں سیاسی بنیادوں پر جاری گرفتاریوں کا سلسلہ بھی روکنے کا مطالبہ کیااور ان گرفتاریوں کو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
شہید کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ رات گئے فلسطینی اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے الحاج سعدی کو گرفتار کیا اورجنید جیل میں موجود اپنے ہیڈ کوارٹر میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ یورپ۔ مشرق وسطی کی انسانی حقوق مشاہدہ کار فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ”السخل” کو مسلسل مظالم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی گرفتاری خلاف قانون تھی۔ فاؤنڈیشن سال کے آغاز سے مغربی کنارے میں جاری ما ورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور تفتیش کے لیے طلبیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
فاؤنڈیشن نے فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ ختم کرے اور بنیادی آزادیاں بحال کرے۔ یہ گرفتاریاں انسانی حقوق کے عالمی قوانین بالخصوص سول اور سیاسی حقوق کی صریح پامالی ہیں۔ جبکہ فلسطینی قوانین کے مطابق بھی سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی یہ گرفتاریاں خلاف قانون ہیں ، بہت سے فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا جاتا ہے اسی طرح قیدیوں کے گھر والوں کو اپنے پیاروں سے ملنے نہیں دیا جاتا۔
الحاج سعدی السخل کے بیٹے مصعب، بایٔیس سالہ، کے مطابق فلسطینی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے صبح گیارہ بجے نابلس کی رفیدیا کالونی میں ان کی ورک پلیس پر چھاپہ مارا کر انہیں گرفتار کیاتھا۔ مصعب نے بتایا کہ ہم دونوں کو گرفتار کرکے الجنید لے جایا گیا جہاں پر اسے بغیر کسی تفتیش کے ایک کمرے میں بند کردیا گیا، پھر دو گھنٹے بعد جیل کے عملے کے ایک کارکن نے مجھے آکر بتایا کہ وہ اسے رہا کرنے والے ہیں ، لیکن اس کے کچھ دیر بعد مجھے خبر ملی کہ والد صاحب فوت ہوچکے ہیں، میرے پیچھے گھر والوں کو اطلاع ملی کہ والد کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
