اسرائیلی صدر شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی اور فلسطین کے درمیان قیام امن کے حقیقی شریک ہیں، ان کے پاس قوت بھی ہے اور وہ مشکل فیصلے کرنے کی جرأت بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقوں کا محمود عباس کو غیر حقیقی شریک قرار دینا درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ ابو مازن محمود عباس کی قوت میں کمی آرہی ہے۔ نہ ہی یہ درست ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے پر حماس کے تسلط سے خائف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس غزہ میں بھی اپنی حمایت کو کھو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اردن کسی بھی صورت حماس کے فوجی تسلط کو قائم نہیں ہونے دینگے۔ ان کے مطابق محمود عباس دو ریاستیوں کے قیام کے شدید حامی ہیں اور انہوں نے ذاتی طور پر اس حوالے سے انتہائی دلیرانہ موقف اپنایا ہے جس سے ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی، مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ وہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) کے صوبے الجلیل کے شہر صفد سے تعلق رکھتے ہیں مگر دو ریاستی حل کے حوالے سے وہ دوبارہ الجلیل جانا پسند نہیں کرینگے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
