خیال رہے کہ اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے فلسطینی صدر محمودعباس کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں نے صہیونی ریاست کےخلاف مسلح جدو جہد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آزادی کے لیے صرف مذاکرات اور جمہوری پرامن جدو جہد کے قائل ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق فلسطینی صدرکا کہنا تھا کہ "مغربی کنارے مین سیکیورٹی فورسز مزاحمت کاروں کا مسلسل تعاقب کر رہی ہیں تاکہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جاسکے”۔
صدر عباس کے اس بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی طالب علم رہ نما احمد خلیل نے کہا کہ "اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والوں کو خودصدر عباس کی جماعت الفتح کے عسکری ونگ الاقصیٰ بریگیڈ نے دوسری تحریک انتفاضہ کے دوران ٹھکانے لگایا۔ اس وقت بھی محمود عباس اپنی پارٹی میں موجود تھے۔ تب وہ فلسطینیوں کی مسلح جدو جہد کی حمایت کیوں کررہے تھے اور آج اس کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ اب صدرابومازن خود بھی کہیں اسرائیل کے جاسوس اورایجنٹ نہ بن گئے ہوں”۔
ایک دوسرے طالب علم عرفات سمیر کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کےخلاف عباس ملیشیا کی کارروائیوں کا اعتراف دراصل اس امرکا اعتراف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نہتے شہریوں کےخلاف اسرائیل کی دشمن فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے اور یقینا ایسا ہے تو ہم اسے فلسطینی اتھارٹی کی قوم کے ساتھ خیانت اور پرلے درجے کی بددیانتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
فلسطینی دانشور جامعہ النجاح میں سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار قاسم نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کی باتیں کوٹی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس بھی قوم کے ساتھ بددیانتی کی ایک خوفناک تاریخ رقم کر رہی ہے۔ اس وقت اگراسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی سے فلسطینی بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں اس جرم میں فلسطینی سیکیورٹی ادارے بھی برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون شرمناک اور نہایت گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ تعاون میں اس قدرآگے چلی گئی ہے کہ اب وہ فلسطینی قوم کے بنیادی مطالبات اور اصول بھی فراموش کرچکی ہے۔
